
لاہور(کامرس رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے کے پی ٹی چارجز اور یوٹیلیٹی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعت و تجارت بری طرح متاثر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پہلے سے مشکلات سے دوچار معیشت کو نقصان پہنچائیں گے لہذاموجودہ حکومت کو ایسے صنعت مخالف اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کی طرف سے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ہینڈلنگ/ڈیلیوری چارجز میں مجوزہ اضافہ واپس لیا جائے۔کاشف انور نے کہا کہ سٹیل کوائلز، وائر راڈز، راونڈ بارز اور دیگر بلک اشیاءکے درآمد کنندگان نے لاہور چیمبر سے رابطہ کیا ہے کہ کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کی طرف سے کے پی ٹی میں آپریشنز سنبھالنے کے بعدعام کارگو کی ترسیل کے لیے ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر اسٹیل کوائلز، وائر راڈزاور راو¿نڈ بارز کے لیے پچاس روپے فی ٹن سے 480روپے فی ٹن کردیا ہے جس سے سٹیل سیکٹر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ فوری طور پر کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کے ساتھ اٹھایا جائے ۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے کہا کہ اس وقت اس طرح کے اضافے کرنا صنعت و تجارت دونوں کے لیے اہم چیلنجز پیدا کرے گا کیونکہ پاکستان بڑی حد تک درآمد ات پر مبنی معیشت ہے۔کاشف انور نے کہا کہ اضافے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے کیونکہ معیشت کو چیلنجز درپیش جبکہ نئی حکومت بھی باگ ڈور سنبھالنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ چارجز کو معقول بنانا اشد ضروری ہے وگرنہ درآمدات اور برآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جس سے سمندری راستوں کے ذریعے ملک کی بین الاقوامی تجارت پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے پاکستان کی برآمدات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور عالمی منڈیوں میں جگہ بنانے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ انہوں نے آنے والی حکومت پر زور دیا کہ وہ نجی شعبے کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرے اور اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) جیسے ریگولیٹری اداروں میں ان کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔انہوں نے فیصلہ سازوں سے اپیل کی کہ وہ معیشت، تجارت اور صنعت کے وسیع تر مفاد میں ان کاروبار مخالف اقدامات پر نظر ثانی کریں۔کاشف انور نے امید ظاہر کی کہ حکام صورتحال کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ان نقصان دہ فیصلوں کو واپس لے لیں گے۔







