پاکستانتازہ ترینسیاست

معیشت کو مضبوط اور کشکول کی پالیسی کو اب ترک کرنا ہوگا، وزیراعظم

ٹیکس ایکسیلینس ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں غزہ جنگ بندی سے متعلق قرارداد منظور کی گئی، جو کہ خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کی تقریب کا مقصد پاکستان کے معماروں یعنی ٹیکس پیئرز کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس ادا کیا، جنہوں نے دن رات محنت کرکے پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔اس وقت ملک جن معاشی حالات سے گزر رہا ہے، جو چیلنجز درپیش ہیں، اگر ان مسائل کو حل کرنا ہے تو گاڑی کی دو پہیوں کی طرح حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آپ کے مسائل حل کرے گی اور اس میں درپیش تمام رکاوٹوں کو دور کرے گی۔ ہمیں سرخ فیتے کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی مسائل تبھی حل ہو سکتے ہیں جب ہم پرائیویٹ سیکٹر کے لیے اچھے مواقع پیدا کریں، انہیں پوری طرح سے سپورٹ کریں۔ انڈسٹریز لگانا یا تجارت کرنا حکومت کا کام نہیں، حکومت کا کام ان سب کے لیے بہترین مواقع پیدا کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ معیشت مضبوط ہو تو قوم کی آواز مضبوط ہوتی ہے اور اس کی آواز کو سنا جاتا ہے، مگر معیشت کمزور ہو تو کمزور کی آواز کوئی نہیں سکتا۔ آج وہ مرحلہ آ گیا ہے کہ سب کو مل کر مشکلات اور چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے ان کا حل نکالنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشکول کی پالیسی کو اب ترک کرنا ہوگا۔ اب تو کشکول لے کر نہ بھی جائیں تو اگلے کہتے ہیں کہ کشکول ان کی بغل میں ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہم پر قرضوں کا پہاڑ ہے، جسے قرض لے کر ہی اتارا جا رہا ہے، قرضوں سے تنخواہیں ادا کرتے ہیں، قرضوں کی زندگی کب تک گزاریں گے؟

وزیراعظم نے کہا کہ جب سے حلف اٹھایا ہے، تب سے اب تک معیشت کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہمیں آئی ایم ایف سے ایک پروگرام اور چاہیے ہوگا، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ تقریب میں تمام کیٹیگریز میں جن افراد کو ایوارڈز دیے گئے ہیں، انہیں بلیو پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔ یہ سب لوگ پاکستان کے سفیر ہیں اور انہیں ملک سے باہر پاکستانی سفارت خانوں کی جانب سے بھرپور معاونت ملے گی اور یہ ان کا حق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button