پاکستان اور بنگلہ دیش: مٹتی رنجشیں، بڑھتی قربتیں

کئی دہائیوں کے تلخ تعلقات کے بعد گزشتہ اگست سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں کافی بہتری آ چکی۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر، نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے دو بار ملاقات کے بعد سے پاکستان کے ساتھ مزید دوطرفہ تبادلے ہوئے ہیں۔
وزارت خوراک نے کہا ہے کہ اس ماہ کے شروع میں ڈھاکہ نے پاکستان سے چاول درآمد کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری ضیا الدین احمد نے پریس کو بتایا،25 ہزار ٹن کی پہلی کھیپ 3 مارچ کو بنگلہ دیش پہنچے گی۔1971 ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بنگلہ دیش نے پاکستان سے حکومتی سطح پر چاول کی درآمد شروع کی ہے۔
حالیہ نومبر میں دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے براہ راست سمندری رابطے کے بعد تجارتی تعلقات ہوئے جب ایک پاکستانی کارگو جہاز 1971 ء کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش گیا۔بین الاقوامی تعلقات کی ماہر اور امریکی نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کی لیکچرار ،آمنہ محسن نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنا بنگلہ دیش کے لیے اہم اقدام ہے۔’’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات آگے بڑھیں۔
ہم ہمیشہ اپنے تعلقات کو متنوع بناتے ہیں (لیکن) سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہیں … اس تناظر میں، پاکستان سے چاول درآمد کرنے کا یہ تازہ ترین فیصلہ بہت اہم ہے،‘‘۔ انہوں نے بتایا۔ بیگم حسینہ کی حکومت نے اپنی پندرہ سالہ بلاتعطل حکمرانی میں پاکستان کے خلاف دشمنی رکھی لیکن بھارت کے ساتھ قریبی اتحاد برقرار رکھا ۔ وہ گزشتہ سال طلبہ کی زیر قیادت عوامی بغاوت کے بعد فرار ہو گئی تھیں اور بدستور جلاوطن ہیں۔ انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آ گئی۔
ڈھاکہ کا پاکستان سے چاول درآمد کرنے کا فیصلہ سیلاب اور معاشی عدم استحکام کے باعث جاری معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے قلت سے بچنے کے لیے بھارت سے بڑی مقدار میں چاول درآمد کرنا بھی شروع کر دیا ۔’’اس وقت، بنگلہ دیش کی مارکیٹ میں چاول کا بحران ہے، اور ہمیں مسابقتی قیمت پر مختلف ذرائع سے چاول حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔” ڈھاکہ میں سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ کے ریسرچ ڈائریکٹر ڈاکٹر خندکر غلام معظم کہتے ہیں۔’’اس نقطہ نظر سے ایک نیا ذریعہ تلاش کرنا (چاول کی درآمد کے لیے) ہمارے لیے مثبت چیز ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اب تجارت دوبارہ شروع ہو گئی ہے،تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تجارتی تعلقات بڑھانے کی صلاحیت ہے۔’’ہمارے تاجر پاکستان کی مارکیٹوں کو تلاش اور لاگت کے لحاظ سے فزیبلٹی پر غور کر سکتے ہیں۔ چاول کی درآمد کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا کی درآمد کے مواقع بھی بڑھ گئے ہیں۔” معظم نے کہا۔’’پاکستان ہماری مارکیٹ میں ایک نیا اضافہ ہے، خاص طور پر بنگلہ دیش کی جاری تجارتی تنوع کی کوششوں پر غور کرتے ہوئے”۔
پاکستان اور بنگلہ دیش، جنوبی ایشیائی ممالک کے طور پر ثقافتی وابستگی، مذہبی تعلقات، اقتصادی ترقی اور ترقی کی باہمی خواہش سمیت متعدد مشترک نکات رکھتے ہیں۔ ایک امید افزا موڑ میں انھوں نے باہمی تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کی ایک مثال قائم کرتے ہوئے اپنے دوطرفہ تعلقات کو نئے سرے سے بحال کرنے اور مضبوط کرنے کے سفر کا آغاز کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ابھرتی ہوئی شراکت داری مشترکہ مفادات، تاریخی روابط اور خوشحال مستقبل کے وژن کی بنیاد پر استوار ہے۔
مفادات کی ہم آہنگی: دونوں ممالک غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور تکنیکی ترقی جیسے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں قریبی تعاون کی صلاحیت تسلیم کرتے ہیں۔عالمی ملبوسات کی صنعت میں بنگلہ دیش کی بڑھتی اہمیت اور ٹیکسٹائل، زراعت اور ٹیکنالوجی میں پاکستان کی مہارت بہتر تجارتی اور سرمایہ کاری کی شراکت کو موزوں بناتی ہے۔ صنعتی ترقی اور علاقائی تجارت جیسے شعبوں میں اپنے اہداف کو ہم آہنگ کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش ہم آہنگ اقتصادی تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔







