پاکستانتعلیمسٹی

ویمن یونیورسٹی ملتان نے ایچ ای سی کے انڈر گریجوایٹ پالیسی 2023نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ

ماہرین کی مشاورت سے تشکیل دی جانے والی پالیسی میں جامعات کی خودمختاری،لچک، اور معیار تعلیم کی بہتری کے بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھا گیا ہے

ملتان(خبر نگار) ویمن یونیورسٹی ملتان نے ایچ ای سی کے انڈرگریجوایٹ پالیسی 2023نافذ کرنے کافیصلہ کرلیا ترجمان کے مطابق ایچ سی کے انڈرگریجوایٹ کے حوالے اہم اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ کی زیر صدارت منعقدہوا جس میں فوکل پرسن گریجوای پالیسی ڈاکٹر مریم ذین نے شرکا کو بریفنگ دی،انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کے دودہائیوں پر محیط تجربے کی روشنی میں اور شعبہ اعلٰی تعلیم سے منسلک ماہرین کی مشاورت سے تشکیل دی جانے والی پالیسی میں جامعات کی خودمختاری،لچک، اور معیار تعلیم کی بہتری کے بنیادی اصولوں کو مد نظر رکھاگیا ہے۔پالیسی تعلیمی آزادی، ضروریات سے مطابقت، اور اصلیت جیسے پہلوؤں کو فروغ دینے کی سعی کی گئی ہے۔ گریجوایٹ ایجوکیشن پالیسی 2023کی ایک قابل غور خاصیت یہ ہے کہ اس کی تشکیل میں آزادانہ سوچ کو اپنایا گیا ہے جس کے تحت بین الشعبہ جاتی داخلہ کی اجازت دی گئی ہے جس سے طلباء اپنے منتخب کردہ شعبہ کے اندر مختلف النوع شعبہ جات کا علم حاصل کرسکیں گے۔ڈاکٹر مریم زین نے نصابی تبدیلیوں کے بارے میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جوبی ایس اور اے ڈی پی پروگراموں کے لیے ضروری ہیں۔نئی پالیسی کے تحت عمومی تعلیم کے کورس 30 کریڈٹ گھنٹے کے ہونے چاہئیں۔ بڑے کورسز 72 کریڈٹ گھنٹے کے ہونے چاہئیں۔8. جدول (صفحہ 3) میں دی گئی عمومی تعلیم کے کلسٹر میں کورسز کی فہرست پر تفصیل سے بات کی گئی ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ کورسز کے مواد اکیڈمک ڈائریکٹر کو سرکولیشن کے لیے فراہم کریں انٹرنشپ، فیلڈ کا تجربہ اور کیپ اسٹون پروجیکٹ کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیااورکہاگیاکہ اسلامی علوم کے کورس کو غیر مسلموں کے لیے دینیات یا اخلاقیات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے. آخر میں اے ڈی پی پروگراموں کے ڈھانچے کے بارے میں ان کے کریڈٹ اوقات، داخلے اور اخراج کے معیار اور کم از کم معیارات کے بارے میں بھی بتایا گیا اور. تمام شعبوں کی چیئرپرسنز کوہدایت کی گئی کہ وہ اپنے نصاب پر نظر ثانی کرکے اوربورڈ آف سٹیڈی اور بورڈ آف فیکلٹی کے بعد اکیڈمک کونسل اور سنڈیکیٹ کے ذریعے منظوری دے کر اسی پالیسی پر عمل کریں۔ اجلاس میں رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان بھی موجود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button