سٹیسیاست

ہر شعبہ مافیا کے رحم و کرم پر، اسمگلنگ میں ملوث افراد کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہو گا

جماعت اسلامی ملک میں کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ چاہتی ہے، قوم ہمارا ساتھ دے

مقررہ مد ت آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ انتخابی عمل کا انعقاد ہی ملک و قوم کو درپیش مسائل کا واحدحل ہےجماعت اسلامی پنجاب وسطی

لاہور ( خبرنگار ) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ چینی، کھاد اورگندم کی پاکستان سے اسمگلنگ تشویشناک ہے، میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گندم کی اسمگلنگ میں ملوث 592 ذخیرہ اندوزں کی نشاندہی کی گئی ہے۔گندم کی اسمگلنگ میں 26ا سمگلرز شامل ہیں، پنجاب میں 272، سندھ میں 244 اور کے پی میں 56 سرکاری اہلکارا سمگلرز کے مددگار ہیں جبکہ بلوچستان میں 15 اور اسلام آباد میں 5 اہلکار اسمگلرز کے ساتھی ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پورا نظام ہی کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔مافیا نے سسٹم کو یرغمال بنایا ہوا ہے، کبھی آٹا مافیا، کبھی چینی مافیا، پٹرول مافیا،اجناس مافیا، لینڈ مافیا اور فارما سو ٹیکل مافیا عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیتا ہے۔بد قسمتی سے جن لوگوں نے ان کو روکنا ہے وہ بھی شریک جرم نکلتے ہیں۔عوام کی مشکلات کا کسی کو ذرا برابر احساس نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اس ملک میں کرپشن اور کرپٹ عناصر کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ملک کو کرپشن سے پاک نہ کیا گیا تو حالات مزید سنگین ہو جائیں گے، ہر شعبہ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے، کرپشن کی اس بہتی گنگا میں پی ٹی آئی، پی ڈی ایم سمیت ہر اس حکومت نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے مالی بدعنوانی،ٹیکس چوری، حوالہ ہندی، سمگلنگ میں ملوث افراد کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہو گا۔ بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، چینی، آٹا سب کچھ عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ مہنگائی کا گراف آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔محمد جاویدقصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کی مدت انتخابات کروائے جانے چاہییں۔مقررہ مد ت میں رہتے ہوئے آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ہی ملک و قوم کو درپیش مسائل کا واحد حل ہے،مگر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم کی حکومت میں شامل تمام اتحادی اس سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button