سٹی

ایل ڈی اے ٹیموں کاشہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات /کمرشل استعمال کے خلاف آپریشن‘ متعد د املاک مسمار و سربمہر

ہاوسنگ سیون کی ٹیم نے شادیوال تاکھوکھر چوک 100 سے زائد املاک سے تجاوزات ختم کر دیں‘سٹرک ٹریفک کے لئے کشادہ

غیرقانونی کمر شل سرگرمیوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ٹاؤن پلاننگ سیون کے عملے نے 40 سے زائد املاک کو سربمہرکر دیاغیر قانونی کمرشل استعمال اور تعمیرات/تجاوزات کے خلاف شہر بھی میں آپریشن جاری رہے گا۔ڈی جی ایل ڈی اے

لاہور(خبر نگار) کمشنر لاہور و ڈی جی ایل ڈی اے محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر ایل ڈی اے ٹیموں نے گزشتہ روزغیر قانونی تعمیرات /کمرشل عمارتوں کے خلاف آپریشن کر کے متعد د املاک مسمار و سربمہر کر دیں۔ ایڈیشنل ڈی جی ہاوسنگ کیپٹن (ر)شاہ میر اقبال کی سربراہی میں ہاوسنگ سیون کے عملے نے شادیوال چوک سے کھوکھر چوک تک 100 سے زائد دکانوں و املاک سے تجاوزات ہٹا دیں اور شادیوال چوک سے کھوکھر چوک تک مین شاہراہ ٹریفک کی روانی کے لیے کشادہ کر دی۔آپریشن کے دوران دکانوں کے آگے بنائے گئے تھڑے، سٹالز، عارضی و مستقل انفراسٹرکچر بھی مسمارکر دیے گے۔شادیوال چوک سے کھوکھر چوک تک مین سڑکوں پر عرصہ دراز سے قائم نجی بینک، کمرشل سٹورز، گراسری سینٹرز، سیلون،فوڈ پوائنٹس، ٹی پوائنٹس‘ ماربل سٹورز، سینٹری سٹورز کی تجاوزات،شیڈ، تھڑے، بورڈزاور ہورڈنگز بھی مسمار کردی گئیں۔
ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ سیون اور فور کے عملے نے بی او آر سوسائٹی جوہر ٹاؤن اور فیروز پور روڈ کے اطراف میں غیرقانونی کمر شل سرگرمیوں کے خلاف آپریشن کر تے ہوئے 40 سے زائد املاک کو سربمہرکر دیا۔ سربمہر کی جانے والی املاک میں بیکری،جنرل سٹور،پراپرٹی آفس، بیوٹی پارلر، ورک شاپس‘ شوروم،فرنیچر شاپس، کلینک، گراسری سٹور،ملک شاپس شامل ہیں۔اس کے علاوہ ڈیفنس روڈ اور فیروز پور روڈ پرواقع زیر تعمیر غیر قانونی سٹکچر بھی مسمار کر دئے گے۔قائد اعظم ٹاؤن پر پراپرٹی نمبر 1-7 ڈی ون کو غیر قانونی کمرشل استعمال پر سربمہر کر دیا گیا۔سیل کی گئی املاک کومتعدد بار نوٹسز جاری کیے جانے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر کمرشل استعمال کیا جارہا تھا۔
آپریشن کی نگرانی ایڈیشنل ڈی جی ہاوسنگ کیپٹن (ر)شاہ میر اقبال‘چیف ٹاؤن پلانر ٹو، ڈائریکٹرہاؤسنگ سیون‘ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ فور اورڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ سیون نے کی۔٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button