پاکستانسٹیسیاست

آسٹریلین سینٹر فار انٹر نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سے جنرل مینیجر آؤٹ ریچ ایند کپیسٹی بلڈنگ مس ایلا نور ڈین کا ویٹرنری یونیورسٹی لاہور کا دورہ

لاہور (خبر نگار) آسٹریلین سینٹر فار انٹر نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سے جنرل مینیجر آؤٹ ریچ ایند کپیسٹی بلڈنگ مس ایلا نور ڈین نے مس نور بتول کے ہمراہ گذشتہ روز یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز لا ہو ر کا دورہ کیا اور وا ئس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد سے ملا قات کی۔دریں اثنا ء اجلا س کا انعقاد ہوا جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد نے کی جبکہ ڈائر یکٹرادارہ فرو غ تعلیم و تو سیع ڈاکٹر حسن محمود وڑا ئچ کے علا وہ فیکلٹی ممبران کی کثیر تعداد بھی اجلا س میں مو جود تھی۔
پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد نے مس ایلا نور ڈین کو ویٹر نری یونیورسٹی کی تا ریخی اہمیت، تعلیمی وتحقیقی پروگرامو ں، ایکسٹینشن ورک اور کمیو نٹی سروسز کے بارے میں تفصیلی بتا یا۔اُ نہو ں نے بتا یا کہ پچھلے سال سیلاب کے دوران یونیورسٹی نے کمیو نٹی سروس کی عظیم مثال قائم کی اور سیلاب متا ثرین کو امدادی اشیا منصفا نہ طریقے سے مستحق خاندانو ں میں تقسیم کیں۔پروفیسر ڈاکٹر نسیم نے بتا یا کہ ویٹر نری یونیورسٹی نے حال ہی میں ٹائمز ہا ئیر ایجو کیشن کی ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2024 کے مطابق دنیا بھر کی جامعات میں 801-1000 کی نما یا ں پو زیشن حا صل کی جبکہ پاکستان بھر کی جامعات میں نویں اور پنجاب بھر کی جامعات میں تیسری پوزیشن بھی حا صل کی ہے۔ ڈاکٹر حسن محمود وڑا ئچ نے ہول فیملی ایکسٹینشن اپروچ کے زریعے لائیو سٹاک ایڈوائزری سروس سسٹم کو فعال کرنے کے مو ضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں اُنہو ں نے آسٹریلین سینٹر فار انٹر نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کی ما لی معا ونت سے پچھلے پندرہ سالو ں میں چلنے والے ایگری کلچر سیکٹر لنکجز پروگرام اور ڈیری بیف پراجیکٹس سے حا صل ہونے والے نتا ئج اور تجربات شیئر کیے نیز بتا یا کہ ان پراجیکٹس کے تحت اشتراکی آرگنا ئزیشن، مویشی پال حضرات اور فارم ایڈوئزرز کے لیئے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا گیا تھا۔
مس ایلا نور ڈین نے ویٹر نری یونیورسٹی کی لا ئیو سٹاک فارمنگ کمیو نٹی کی ایکسٹیشن ریسرچ اور کپیسٹی بلڈنگ کے زریعے ادا کی گئی گراں قدر خدمات کو سرا ہا نیز یونیورسٹی کی سپورٹ سے آسٹریلین سینٹر فار انٹر نیشنل ایگریکلچر ریسرچ پارٹنر شپ کو چھوٹے مویشی پال کسا نو ں کی بہتری کے لیئے جاری رکھنے سے متعلقہ حکمت عملی بنا نے کا بھی تذ کرہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button