سٹیسیاست

غزہ ہسپتال پر اسرائیلی بمباری اور بد ترین جا رحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ علامہ ہشام الہٰی ظہیر

اسرائیلی مظالم پر با ضمیر انسان سمیت پاکستانیوں کا سینہ غم کی شدت سے پھٹ رہا ہے۔ صدر جمعیت اہل حدیث پاکستان

مُسلم ممالک فلسطین کے تحفظ اور مسجد اقصی کی مکمل آزادی اس کی بالا دستی کیلئے متحد ہوں۔ علامہ طارق محمود یزدانی، مولانا ذاکر الرحمن صدیقی ودیگر کی گفتگو

لاہور(خبر نگار)جمعیت اہل حدیث پاکستان کے صدر علامہ ہشام الہٰی ظہیر سمیت دیگر راہنماؤں نے غزہ ہسپتال پر اسرائیلی بمباری اور بد ترین جا رحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی بمباری دہشت گردانہ کاروائی اور انسانیت کے خلاف گھناؤنا جرم ہے۔ بچوں، خواتین، بزرگوں اور ہسپتال میں زیر علاج لوگوں پر بم برسانا بر بریت کی انتہاء ہے اسرائیلی مظالم پر با ضمیر انسان کا سینہ غم کی شدت سے پھٹ رہا ہے۔ وہ گزشتہ روز مولانا عبد المنان صدیقی کے ہمراہ آنے والے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفد میں علامہ طارق محمود یزدانی (چیئرمین)، مولانا ذاکر الرحمن صدیقی (ناظم اعلیٰ)موجود تھے۔ علامہ ہشام الہٰی ظہیرنے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ منافقانہ رویہ چھوٹ کر فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے رول پلے کرے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں سوئی ہوئی ہیں؟ ان کو مسلمانوں کا بہتا خون کیوں نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مُسلم ممالک فلسطین کے تحفظ اور مسجد اقصی کی مکمل آزادی اس کی بالا دستی کیلئے متحد ہوں۔ علامہ طارق محمود یزدانی، مولانا ذاکر الرحمن صدیقی، مولانا عبد المنان صدیقی و دیگر کاکہنا تھا مُسلم معاشروں کی تباہاہی کا سب سبے بڑا سبب ان کی آپس کی نا چاقیاں، انتشار، نا اتفاقی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ عالم اسلام کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ اسرائیلی جارحیت اوراسکی بر بریت میں دن بدن اضافہ ہو تا چلا جا رہا ہے عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیر، فلسطین سمیت جتنے بھی ممالک پر کفار مسلط ہیں ان کے خلاف عالمی برا دری کے متحد ہونے کا وقت آچکا ہے۔ غزہ میں مسلسل اسرائیل خون کی ہولی کھیل رہا ہے نہتے فلسطینی مسلمان عورتوں، بچوں، خواتین، بزرگوں و دیگر شہریوں پر اسرائیلی بمباری شرمناک اقدام ہے۔اسرائیلی بر بریت کے خلاف اس وقت پو رے عالم کو سڑکوں پر نکل کر ان مظالم کے خلاف سرا پا احتجاج بننا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button