پاکستانسٹیسیاست

حکومت صرف افغانیوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے عامر میر

پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کاروائی کا پراپیگنڈہ بالکل غلط۔ وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس

لاہور (خبرنگار)وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے کہا ہے کہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کاروائی کے آغاز سے متعلق یہ پراپیگنڈہ بالکل غلط ہے کہ حکومت صرف افغانیوں کے خلاف کاروائی کر رہی ہے ۔ پنجاب حکومت کا ٹارگٹ کوئی مخصوص گروہ یا ملک نہیں بلکہ وہ تمام غیر ملکی عناصر ہیں جو ملک میں دہشت گردی کا سبب بن رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں سے زیادہ تر میں افغان ملوث پائے گئے ہیں تاہم پالیسی کے تحت ان تمام ملکیوں کو پاکستان سے بے دخل کیا جارہا ہے جو یہاں غیر قانونی طور پر مقیم پائے گئے ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں وہ 14لاکھ افغان مہاجرین ہر گز شمار نہیں کیے جا رہے جنھیں نادرہ کی جانب سے عارضی طور پر پاکستان میں قیام کی اجازت دی گئی ہے ۔ ان 14لاکھ مہاجرین کو جن میں سے ایک لاکھ 64ہزار پنجاب میں مقیم ہیں نادرہ کی جانب سے باقاعدہ رجسٹریشن کارڈ جاری کیے گئے ہیں جو پاکستان میں ان کے قانونی قیام کا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار عامر میر نے آج محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی بلکہ وفاق کی طرح پنجاب میں بھی غیر قانونی غیر ملکیوں کو انخلاء کے لیے 31اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے ۔ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے ویزوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے انہیں موقع فراہم کیا جا رہا ہے کہ وہ یکم اکتوبر تک اپنی دستاویزات مہیا کر کے خود کو لیگل کروا لیں یا پھر 31اکتوبر تک پاکستان چھوڑ دیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کیا جانے والا یہ پراپیگنڈہ بھی غلط ہے کہ پاکستان میں موجود افغان صحافیوں کے خلاف بھی بے دخلی کی کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ہے مستقبل میں بھی وطن عزیز میں یہی پالیسی اختیار کی جائے گی تاہم دنیا بھر کی طرح پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس حوالے سے آئین و قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ صوبے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کاروائی کے لیے مقررکردہ یکم نومبر کی ڈیڈ لائن کو حتمی تصور کیا جائے کیونکہ اس تاریخ میں کوئی توسیع ہو گی نا اس کے بعد کسی غیر ملکی کے ساتھ کوئی رعایت برتی جائے گی۔ سابق وزیر اعظم کی وطن واپسی سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ سابق وزراء اعظم کو ماضی میں بھی سیکیورٹی مہیا کی جاتی رہی ہے اب بھی کی جائے گی۔ جہان تک تعلق اساتذہ کے احتجاج کا ہے تو وہ ایک مفروضے پر مبنی احتجاج ہے پنجاب حکومت کسی سرکاری ادارے یاسکول کو پرائیویٹ نہیں کر رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button