سٹیسیاست

اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد پر بھی حملے شروع کردیے، کوئی روکنے والا نہیں

شہداکی تعدا د 10ہزار سے بڑھ گئی،4 ہزار880 بچے اور 27 سو سے زاید خواتین شامل ہیں

اسرائیل، فلسطین تنازع تہذیبوں اور مذاہب کی جنگ میں تبدیل، تیسری عالمی جنگ کا خطرہ منڈیلا رہا ہے . تمام مسلم ممالک اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کریں . جماعت اسلامی پنجاب وسطی 

لاہور (خبر نگار) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں اس کے 5 امدادی ٹرکوں اور 2 گاڑیوں کو نشانہ بنایا جن میں زندگی بچانے والی ادویات بھی شامل تھیں۔ اسرائیل مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کررہا ہے مگر کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ایک طرف اسرائیل نے غزہ میں انسانی امداد پر بھی حملے شروع کردیے جبکہ دوسری جانب عالمی برادری، اقوام متحدہ اس قتل عالم کو رکوانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا جس میں غزہ پر جنگ سے متعلق قرار داد منظور نہ ہو سکی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 7اکتوبر سے اب تک شہدا کی کل تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز ہوچکی ہے، اسرائیل متواتر بمباری اور فاسفورس حملوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔غزہ میں اسپتالوں پر بھی حملے کیے۔ صہیونی فورسز رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے غزہ کھنڈر بن گیا ہے۔غزہ کی آبادی کو ایک طرف دھکیل کر قبضہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔مجموعی طور پر شہدا میں 4 ہزار880 بچے اور 27 سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جبکہ32 ہزار سے زائد افرادزخمی ہیں اور 15لاکھ سے زا ئد شہری بے گھر ہوگئے۔انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ میں ڈیڑھ سو بستروں کا فیلڈ اسپتال قائم کرنے کے اعلان پر کہا کہ امت مسلمہ کو آج جس ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا، بد قسمتی سے وہ سامنے نہیں آیا۔ فلسطین کی زمین مسلمانوں کی ملکیت ہے اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔تمام مسلم ممالک اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کریں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ جارحیت کو 33 روز گزر گئے ہیں، 23 لاکھ افراد کو پانی، کھانے اور ایندھن کی فراہمی بدستور معطل ہے جبکہ مواصلاتی نظام منقطع ہے۔اسرائیل، فلسطین تنازع تہذیبوں اور مذاہب کی جنگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button