پاکستانسٹیسیاست

جمعیت اہل حدیث پاکستان دینی جما عتوں کے ساتھ اتحاد کیلئے کوشاں ہے۔علامہ ہشام الہٰی ظہیر

تبدیلی کے نام پر قوم کو بے وقوف بنایا گیا عوام ان لوگوں کو مسترد کر دے۔ فلسطین انبیاء کرام علیہ اسلام کی سر زمین ہے اس کا تحفظ اُمت مُسلمہ پر فرض ہے: نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب
لاہور(خبر نگار) جمعیت اہل حدیث پاکستان کے صدر علامہ ہشام الہٰی ظہیرنے مر کز قرآن و سنہ اسلامک سینٹر میں نماز جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کہاعام انتخابات کیلئے جمعیت اہل حدیث پاکستان نے اپنا ہو م ورک مکمل کر لیا ہے تمام اضلاع سے لسٹیں منگوا کر جلدی ہی اپنے اُمیدواروں کی فہرستیں جا ری کریں گے اس کے علاوہ ہما ری زیادہ تر تو جہ اسلام پسند دینی جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر مرکوز ہے۔ جمعیت اہل حدیث پاکستان دینی جما عتوں کے ساتھ اتحاد کیلئے کوشاں ہے۔ ہم نے اس وطن کو اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ ہم نے اس ملک میں بھٹو ازم، نواز شریف، عمران خان ازم کو آزما لیا اگر نہیں آزامایا تو اسلام کو نہیں۔مذہبی جما عتوں کے قائدین وطن عزیز میں اسلام کے لئے متحد ہو جائیں۔پاکستان کو جو در پیش چیلنجز ہیں وہ حل ہونے چاہئیں۔ سابقہ حکومتوں نے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنے مخالفین کے خلاف زہر یلا بارود بھرا تبدیلی کے نام پر قوم کو بے وقوف بنایا گیا عوام ان لوگوں کو مسترد کر دے۔پانچ سال ملک میں گالم گلوچ کی سیاست ہوئی اقتدار کی بند بانٹ نے سیاستدانوں کے چہرے کو عیاں کر دیا۔ علامہ ہشام الہٰی ظہیر نے فلسطین، غزہ میں اسرائیلی بر بریت پر اپنی گفتگو میں کہا مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول، عالم اسلام کی مسجد ہے اسرائیل قابض ریاست ہے۔فلسطین، کشمیر کا مسئلہ پو ری ملت اسلامیہ کا ہے جس کیلئے صدائے احتجاج کو بلند کرنا عالمی برادری کا فرض ہے۔ فلسطین انبیاء کرام علیہ اسلام کی سر زمین ہے اس کا تحفظ اُمت مُسلمہ پر فرض ہے۔ اوآئی سی، اقوام متحدہ سمیت دیگر انسانی حقوقی کی علمبردار تنظیمیں فلسطین کے معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تمام عالم اسلام فلسطین کی کھل کر حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں۔ عالم کفار اسرائیل کی حمایت کیلئے فوجیں بھجوارہے ہیں جبکہ عالمی برادری ابھی تک فلسطین کیلئے متحدنہیں ہو سکے جو مسلمان اپنے حقوق کی جنگ لڑے صہیونی طاقتیں غرور، تکبر کے نشے میں دھت ہوکر اُن کو دہ شت گرد کہہ دیتے ہیں جبکہ امریکہ، اسرائیل، بھارت خود سب سے بڑے دہشت گرد ملک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button