تعلیمسٹی

ویمن یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے زیر اہتمام دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس شروع

ویمن یونیورسٹی نےہمیشہ ریسرچ کو عام کرنے کےلئے انقلابی قدم اٹھائے

ملتان(خبر نگار)ویمن یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے زیراہتمام دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس شروع ہو گئی جس کا عنوان’’ ’’زبان اور ملٹی ڈسپلنری ریسرچ‘‘ رکھا گیا ہےکانفرنس کاافتتاح چیف پیٹرن وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر کلثوم پراچہ نے کیا افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئےکہاکہ ویمن یونیورسٹی نےہمیشہ ریسرچ کو عام کرنے کےلئے انقلابی قدم اٹھائے محققین اور سکالرز کو سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی عملی تحقیق پیش کرنے کے لیے ایک جگہ فراہم کی ہے۔ انگریزی زبان کی تدریس، لسانیات اور ادب میں بین الضابطہ تحقیق کی توسیع کے ساتھ، یہ پلیٹ فارم اسکالرز اور محققین کو اپنے تحقیقی نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ کانفرنس کا مقصد ان مضامین سے تعلق رکھنے والے محققین کو اپنے قابل اطلاق نتائج کا اشتراک کرنے کی ترغیب دینا ہے کہ زبان کس طرح مروجہ مقامی اور عالمی چیلنجوں کا حل ہو سکتی ہے۔ بین الضابطہ لسانیات اور زبان کے مطالعہ پر بین الاقوامی کانفرنس کا مقصد کانفرنس کے رجحان ساز موضوعات پر ایک تفصیلی بحث کا اہتمام کرنا ہے۔ یہ مباحثے طلباء، محققین اور ماہرین کی فعال شرکت کے ذریعے تمام اقوام کو ایک صفحے پر لے آئیں گے۔ اس کے علاوہ، یہ علم کو بڑھانے، کنکشن بنانے اور اپنے کیریئر میں نئے شعبوں کو دریافت کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔کانفرنس میں ماہرین نے اپنےریسرچ مقالے پیش کرتے ہوئے کہا کہ لسانیات زبان کی سائنس ہے، اور ماہر لسانیات وہ سائنسدان ہیں جو زبان کی نوعیت اور کام کے بارے میں سوالات پر سائنسی طریقہ کار کا اطلاق کرتے ہیں۔ماہر لسانیات دنیا کی6ہزارسے زیادہ زبانوں میں تقریری آوازوں، گرامر کے ڈھانچے اور معنی کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ زبان کے خاندانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی تاریخ اور اس بات کی بھی تحقیقات کرتے ہیں کہ جب ہم بچے ہوتے ہیں تو زبان کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ واضح طور پر، ماہرینِ لسانیات کے بہت سے سوالات لائف سائنسز، سوشل سائنسز، اور ہیومینٹیز کے شعبوں کے ساتھ اوورلیپ ہوتے ہیں، اس طرح لسانیات کو ایک کثیر الشعبہ میدان بنا دیا جاتا ہے اس موقع پر فوکل پرسن رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان نے کہاکہ کانفرنس کو یونیورسٹی کے مستقل کلینڈر کا حصہ بنایا جارہاہے امید ہے اس کانفرنس کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے انہوں نے شعبہ انگلش کی کارکردگی کا خلاصہ پیش کیا کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران (VC MNSEU) نے ادب کے ذریعے مختلف سطحوں پر سماجی تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کے انگریزی نصاب میں IELTS یا TOEFL کی بنیادی باتوں کو شامل کرنے کی طرف اشارہ کیا اور پاکستانی طلباء کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں قومی شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ علم حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کریں اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی کمیونیکیشن اسکلز کو بہتر بنائیں۔ ڈاکٹر واجد علی (وی سی، یونیورسٹی آف اوکاڑہ) نے لسانیات اور ادبی علوم کے میدانوں میں ابھرتے ہوئے رجحانات کے مطابق اساتذہ کو تربیت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر نوید چوہدری اور ڈاکٹر مبینہ طلعت نے نوجوانوں کو روایتی نظام تعلیم کی بجائے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دینی چاہیے کے ماڈیولز کی نشاندہی کی انہوں نے ڈاکٹر میمونہ خان کی کاوشوں کو سراہا اور کانفرنس کو شعبہ لسانیات اور ثقافت کا عکاس قرار دیا کانفرنس میں اساتذہ اور طالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر پوسٹر سازی کے مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا۔ آخر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے مہمانوں اور مقررین میں شیلڈز تقسیم کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button