سٹی

موجودہ حکومت نے جنرل کیڈر کے خاتمے اور ٹی ایچ کیوز و ڈی ایچ کیوز کی نجکاری فیصلہ کر لیا . پروفیسر اشرف نظامی

حکومت ناجائز ہیومن ریسورس (Revamping) سے اجتناب کرے ورنہ پنجاب بھر میں احتجاج کیا جائے گا

لاہور (خبرنگار)موجودہ نگران حکومت ہیلتھ پروفیشنلز کے ساتھ محکمانہ دشمنی پر مبنی پالیسیوں پر کارفرما ہے جس سے حکومت پنجاب کے دو محکمہ صحت مختلف کیڈرز میں سروس کرنے والے ہیلتھ کیئر پروائیڈرز کے معاشی قتل عام کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ان خیالات کااظہار پی ایم اے کے رہنماوں پروفیسر اشرف نظامی، پروفیسر شاہد ملک،ڈاکٹر کامران احمد،ڈاکٹر سہیلہ شفیع،پروفیسر خالد محمود خان،ڈاکٹر ارم شہزادی،ڈاکٹر بشریٰ حق، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، ڈاکٹر واجد علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا رہنماوں نے کہاکہ محکمہ صحت میں جنرل کیڈر میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد تقریباً پندرہ ہزار ہے اور یہ ایک چار درجاتی سروس سٹرکچر میں میڈیکل آفیسر (گریڈ17) سے سینئر میڈیکل آفیسر (گریڈ18) پھرایڈیشنل پرنسپل آفیسر(گریڈ19) اور آخر میں پرنسپل میڈیکل آفیسر (گریڈ20) میں ترقی حاصل کرتے ہیں۔موجودہ حکومت نے اس جنرل کیڈر کے خاتمے اور پنجاب کے تحصیل ہیڈکوارٹراور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی نجکاری کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔اور اس کام کی پہلی اینٹ پنجاب کے تمام اضلاع میں سینئر میڈیکل آفیسرز، ایڈیشنل پرنسپل میڈیکل آفیسرز اور پرنسپل میڈیکل آفیسرز کی سیٹیں ختم کر دی ہیں۔ اس بربادی کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کیڈر میں مزید ترقی بند ہو جائے گی اور جو اپنی ترقی کو Actualize کرنا چاہتے ہیں اُن کے لئے کوئی سیٹ میسر نہیں ہو گی۔اس غیراخلاقی ، غیر قانونی اور غیرآئینی اقدام کیلئے محکمہ صحت کی بیوروکریسی فنانشل ڈیلگیشن رولز کی من پسند تشریح کر کے یہ نتیجہ اخذ کیے بیٹھی ہے کہ یہ سیٹیںایک سال سے خالی ہیں اور قانون کے مطابق محکمہ انہیں ختم کر سکتا ہے۔حالانکہ محکمہ صحت کی بیوروکریسی نے پہلے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو ترقی نہ دی اور سیٹیں خالی رکھیں اور دوسرا جرم کرتے ہوئے اب یہ سیٹیں ختم کر دی جائیں گی۔ آب ایک سازش کے تحت پہلے ان DHQ اور THQ کی ہیومن ریسورس فارغ ہو گی۔ پھر نعرہ لگے گا اِن کی ناکامی کا اور اس کو جواز بنا کر انہیں پرائیویٹائز کر دیا جائے گایہاں ہم یہ منطقی سوال آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ کیا بیوروکریسی نے آج تک اپنی کوئی سیٹ ختم کی ہے جبکہ اِن سفید ہاتھیوں کے کریڈٹ پر سوائے بربادی کے اورکوئی مثبت کام ہے ہی نہیں۔ہم ااپ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تلوار صرف جنرل کیڈر ڈاکٹروں پر ہی نہیں بلکہ نرسز اور دوسرے کیڈرز پر بھی گرنے والی ہے۔ہم آپ کے توسط سے وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس ناجائز ہیومن ریسورس (Revamping) سے اجتناب کیا جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ پورے پنجاب تک پھیل جائے گا۔ اس ضمن میں پی ایم اے پنجاب کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button