سٹی

عورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خواتین ورکرز کے سماجی و اقتصادی حقوقِ کی تقریب

عورت فاؤنڈیشن مزدور خواتین کی قیادت، تنظیم سازی وملبوسات کی صنعتوں میں مدد کیلئے پرعزم ہے ۔ شمائلہ تنویر
لاہور (خبر نگار) عورت فاؤنڈیشن نے لاہور میں ” پاکستان میں ملبوسات کی خواتین ورکرز کے سماجی اور اقتصادی حقوق کو فروغ دینے کے لیے پراجیکٹ کا آغاز کیا۔
سارہ انم آر ڈی عورت فاؤنڈیشن لاہور کے افتتاحی اور خیرمقدمی کلمات کے بعد پراجیکٹ مینیجر شمائلہ تنویر نے پراجیکٹ کے اہداف سے آگاہ کیا اور پراجیکٹ کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ ملبوسات کے شعبہ میں کام کرنے والی خواتین کارکنوں کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ قائدانہ صلاحیتوں کی تعمیر، پیشہ ورانہ مہارت, صحت اور حفاظتی اقدامات میں بہتری اس منصوبہ کے اہم مقاصد ہیں اور عورت فاؤنڈیشن مزدور عورتوں کی قیادت، تنظیم سازی، اور ملبوسات کی صنعتوں میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد خواتین کے لیے پیشہ وارانہ علیحدگی اور ملازمت کی غیر یقینی شکلوں کو توڑنا اور پاکستان میں ملبوسات خواتین ورکرز کے سماجی اور اقتصادی حقوق کو فروغ دینا ہے نیز رکاوٹوں کو توڑنا اور صنفی پیشہ وارانہ علیحدگی کو چیلنج کرنا اور خواتین کے لیے ملازمت کی غیر یقینی صورت حال کو ختم کرنا ہے۔ اُنہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ خواتین کی فعال شرکت اور انضمام کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے اور معاشی انصاف کے لیے حکمت عملی کو فروغ دے گا۔
پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب میں مختلف اسٹیک ہولڈرز جیسے کہ سرکاری محکموں، خواتین اور انسانی حقوق کے کمیشنوں، لیبر رائٹس کے ماہرین، خواتین کی زیر قیادت تنظیموں اور اتحادوں، تکنیکی تربیتی اداروں کے نمائندوں ۔خاص طور پر گارمنٹس سیکٹر کی خواتین ٹریڈ یونین کارکنان، تجارتی تنظیوں کے نمائندوں اور کارخانوں کے انسانی وسائل کے شعوبوں نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔نیز یہ کہ ملبوسات کی خواتین ورکرز (AWWs) کو درپیش صنفی فرق اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور معاشی انصاف کے لیے اسٹریٹجک سفارشات مرتب کی گئیں جو کہ آگے بڑھنے کا راستہ طے کرنے میں عورت فاؤنڈیشن کی معاون ثابت ہونگی ۔ ”
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حنیف رامے, جنرل سیکرٹری متحدہ لیبر فیڈریشن پنجاب نے پاکستان میں ٹیکسٹائل ویمن ورکرز کو درپیش چیلنجز اور مسائل پر تفصیلی گفتگو کی.
عبدالوحید رحمان, ڈائریکٹر بورڈ آف ٹیکسٹائل انڈسٹریز نے اپنے خطاب میں خوشحال پاکستان بنانے کے لئے مزدور عورتوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا.

محترمہ صباحت جبیں, ڈائریکٹر لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے خواتین کارکنوں کے لیے کام کی حالت اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے قانونی فریم ورک کا ایک جامع جائزہ پیش کیا.

ڈاکٹر شہلا جاوید اکرم, چیئرپرسن ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے ٹیکسٹائل خواتین کارکنوں کو مضبوط بنانے اور اُنکے لئے محفوظ ماحول مہیا کرنےمیں چیمبر آف کامرس کی کاوشوں کا ذکر کیا.
قاضی صدام, پراوینشل فوکل پرسن سمیڈا پنجاب نے خواتین انٹرپرینیورشپ کی ترقی کے حوالے سےسمیڈا کی طرف سے کئے گئے اقدامات پر سیر حاصل روشنی ڈالی.
محترمہ کنول لیاقت نے اقتصادی صنفی انصاف کو آگے بڑھانے میں پارلیمنٹ کے کردار بارے شرکاء کو آگاہ کیا.
مہمانِ خصوصی جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید نے ٹیکسٹائل انڈسٹریز میں کام کرنے والی عورتوں کے لئے عورت فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اہنی ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا.
آخر میں نبیلہ شاہین سنئیر پروگرام آفیسر عورت فاؤنڈیشن نے آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کی آمد کا شُکریہ ادا کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button