پاکستانسٹیکاروبار

آبی زراعت کے شعبے معاشی استحکام اور روزگار کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں، سیکرٹری انڈسٹریز

اقوام متحدہ کے ادارے ، پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت اور محکمہ فشریز کے زیراہتمام سمپوزیم میں مقررین کا اظہار خیال. آبی زراعت کی بطور منافع بخش کاروبار ترویج اور اس کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی گئی، ملک بھر سے سٹیک ہولڈرز کی شرکت

لاہور (خبر نگار) آبی زراعت اور ماہی پروری کے شعبے ہمیں معاشی طور پر مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری برائے صنعت ، تجارت ، سرمایہ کاری و مہارت احسان بھٹہ نے آبی زراعت و ماہی پروری کے حوالے سے منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ’’آبی زراعت کی ترویج برائے کاروبار‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس اہم اور بصیرت انگیز سمپوزیم کا انعقاد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت اور محکمہ فشریز پنجاب کے تعاون سے کیا۔ سمپوزیم میں مقررین نے آبی زراعت کی صنعت کی بطور منافع بخش کاروبار ترویج اور اس صنعت کو درپیش مشکلات سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جبکہ اس میں کلیدی سٹیک ہولڈرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سمپوزیم نے اہم شعبوں پر بات چیت کے لیے نہ صرف اہم پلیٹ فارم مہیا کیا بلکہ اس میں آبی زراعت کے پیشے سے منسلک کاروباری اداروں اور وہاں کام کرنے والے افراد کی اسٹریٹجک رہنمائی لئے مشاورتی پالیسی پر بھی زور دیا گیا۔ سیکرٹری صنعت و تجارت کا کہنا تھا کہ آبی خوراک اور ماہی پروری کےشعبے انتہائی منافع بخش صنعت کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان شعبوں کی ترقی کے ذریعے بہت سے ممالک نے اپنی گرتی معیشتوں کا سہارا دیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس اہم شعبے میں سرمایہ کاری اور اس کی ترویج کیلئے مواقع پیدا کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اہم ایونٹ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جبکہ سیکرٹری صنعت و تجارت احسان بھٹہ نے شرکاء کو خوش آمدید کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے نائب نمائندہ عامر ارشاد نے پاکستان میں ادارے کے کردار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ان کا ادارہ شعبہ زراعت کے فروغ، اس کی ویلیو چین مرتب کرنے اور آبی وسائل کی بہتر مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سروسز سے آگاہی جیسے اہم فرائض انجام دے رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل فشریز ڈاکٹر سکندر حیات نے صوبہ بھر میں شعبہ ماہی پروری اور آبی زراعت کے فروغ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور اس ضمن میں محکمہ ماہی پروری کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ سمپوزیم کے اختتام پر شرکاء نے تکنیکی سیشنز میں حصہ لیا جس میں ماہرین نے شعبوں کی اہمیت اجاگر کی اور شرکاء کو اس کاروبار کے اسرار رموز سے آگاہ کیا۔ تکنیکی سیشنز سے ڈی جی جنگلی حیات و ماہی پروری انصر محمود چٹھہ اور اے ایم جی گروپ کے چوہدری نبیل احمد نے خطاب کیا۔ پروگرام کے اختتام پر دو پینل مذاکرات کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان میں ماہی پروری کی فروغ پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button