پاکستانتعلیمسٹیصحت

میڈیکل کالجوں میں پریکٹیکل کے روایتی طریق کار کو بدلنے کی منظوری

رواں سال سے میڈیکل سٹوڈنٹس کو ہر پریکٹیکل میں 12 آبزروڈ سٹیشنوں سے گزرا جائے گا

ہر سٹیشن پر الگ الگ ایکسٹرنل ایگزامنرز ہوں گے، انٹرنل ایگزامنر کا کردار ختم. یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں اجلاس، تمام ڈگری پروگراموں میں سسمٹر سسٹم نافذ کرنے کی منظوری

لاہور (خبر نگار) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی اکیڈمک کونسل اور بورڈز آف سٹڈیز کا مشترکہ اجلاس جمعرات کے روز وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور کی صدارت میں ہوا جس میں
میڈیکل کالجوں میں پریکٹیکل کے روایتی طریقہ کو بین الاقوامی طریق کار کے مطابق بدلنے کی متفقہ منظوری دی گئی۔ مزید برآں یونیورسٹی کے تمام پروگراموں میں پرانے سالانہ تعلیمی نظام کو ختم کرکے اس کی جگہ سمسٹر سسٹم لانے پر بھی اتفاق ہوگیا۔ اجلاس میں الحاق شدہ اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ تھرڈ ائیر ایم بی بی ایس میں پروموٹ ہونے کیلئے طلبہ کو اب سیکنڈ پروفیشنل امتحانات میں اسلامیات اور پاکستان سٹڈیز کے مضامین بھی لازمی پاس کرنا ہوں گے۔ قبل ازیں طلبہ یہ دونوں مضامین پاس کیے بغیر بھی تھرڈ ائیر میں پروموٹ ہوجاتے تھے۔ اب ان دونوں مضامین میں فیل ہونے کی صورت میں بھی طالب علم کو سال ریپیٹ کرنا ہوگا۔ مزید برآں ممبران نے نئے ماڈیولر نصاب کے تحت فرسٹ پروفیشنل ایم بی بی ایس کے پریکٹیکل امتحان کا روایتی طریقہ تبدیل کرنے کی منظوری دی جس کے تحت اس سال سے روایتی زبانی امتحان کی جگہ میڈیکل سٹوڈنٹس کو 12 آبزروڈ سٹیشنوں سے گزرا جائے گا۔ تمام سٹیشنوں پر الگ الگ ایکسٹرنل ایگزامنرز ہوں گے۔ امتحان کے دوران میڈیکل سٹوڈنٹس کے اپنے ٹیچرز بطور انٹرنل ایگزامنر موجود نہیں ہوں گے۔ اجلاس میں پی ایچ ڈی، ایم فل کے بعد رواں برس سے نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ کے تمام ڈگری پروگراموں میں سسمٹر سسٹم نافذ کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button