پاکستانتعلیمسٹی

عالمی ادارے کیو ایس نے پنجاب یونیورسٹی کو ایشیا میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والی یونیورسٹی قرار دے دیا

لاہور (خبرنگار)عالمی ادارے کیو ایس نے پنجاب یونیورسٹی کو ایشیا میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والی یونیورسٹی قرار دے دیا۔عالمی رینکنگ میںبے مثال ترقی پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودنے چیئرمین رینکنگ کمیٹی ڈاکٹر عثمان اعوان اور سیکرٹری ڈاکٹر شفیق الرحمن کے ہمراہ یونیورسٹی کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے کیو ایس رینکنگ میں حیرت انگیز و شاندار ترقی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی ایمبیسی کے افسران بلال اکرم شاہ اور بلال ریاض نے واشنگٹن میںمنعقدہ عالمی ادارے کیو ایس کی طرف سے ایجوڈیٹا سمٹ میں پنجاب یونیورسٹی کو پانچ برسوں میں سب سے ذیادہ ترقی کرنے والے ادارہ قرار دینے کا ایوارڈ وصول کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پنجاب یونیورسٹی نے چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریااور سنگاپور کی جامعات کا مقابلہ کر کے یہ اعزاز حاصل کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی نے وسائل کے اعتبارسے کئی گنا بڑی یونیورسٹیوں کو پیچھے چھوڑ کر پوزیشن حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ میں بھی حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی رینکنگ میں پنجاب یونیورسٹی دنیا کی 570 ویں بہترین یونیورسٹی قرار پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت پنجاب یونیورسٹی کی رینکنگ میں 170 درجے کی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رینکنگ میں پنجاب یونیورسٹی دنیا کے بہترین 740-750 اداروں میں شامل تھی جبکہ ایک سال میں عالمی رینکنگ میں 170 درجے بہتری حاصل کرنا غیر معمولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریجوایٹس کو ملازمت کے حصول کی کیٹیگری میں پنجاب یونیورسٹی نے پاکستان میں نمبر 1 پوزیشن حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیو ایس ٹیم کی جانب سے پانچ ہزار چھ سو تریسٹھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساکھ اور تحقیق کا تجزیہ کرکے ایک ہزار پانچ سو تین اداروں کی درجہ بندی کی گئی جس میں پنجاب یونیورسٹی کو رینکنگ میں 570 ویں پوزیشن ملی ۔انہوں نے کہا کہ اس خبر سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا منظرنامہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم وسائل کے باجوود پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی کی بدولت گزشتہ پانچ برسوںکے لئے ’بہترین ادارہ برائے ایشیا ریجن کا ایوارڈ‘خوش آئند ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے رواں برس 14 اعلیٰ تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کی گئی ہے جس میں ’روزگار کے نتائج‘ کے اشاریے میں پنجاب یونیورسٹی پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ انڈیکیٹر پنجاب یونیورسٹی کی اپنے گریجویٹس کے لیے اعلیٰ سطحی ملازمت کو یقینی بنانے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ درجہ بندی میں اسکوپس انڈیکسڈ پبلیکیشنز کے پچھلے پانچ برس کا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے جس میں پنجاب یونیورسٹی کے اشتراک سے8637 سکوپس انڈیکسڈ پیپرز شائع کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روزگار کے نتائج کے اشاریے میں پنجاب یونیورسٹی دنیا بھر میں 118 ویں نمبر پر، روزگار کی ساکھ کے اشاریے میں 162 ویں اور تعلیمی ساکھ کے اشاریے میں پنجاب یونیورسٹی دنیا میں 566 ویں نمبر پر رہی۔انہوں نے کہا کہ رینکنگ میں بہتری پر پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ، انتظامیہ اور طلباء مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے نوجوان پروفیسرز پر مشتمل یونیورسٹی رینکنگ کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان اعوان کی کنوینر شپ میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

چیئرمین رینکنگ کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد عثمان اعوان نے کہا کہ فیکلٹی طلباء کے تناسب میں بہتری، بین الاقوامی فیکلٹی اور بین الاقوامی طلباء میں اضافہ، بین الاقوامی ماہرین تعلیم کے ساتھ مشترکہ تصانیف کے مقالوں میں اضافہ اور پاکستان کے سماجی و اقتصادی مسائل پر مرکوز تحقیق آنے والے سالوں میں پنجاب یونیورسٹی کی درجہ بندی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پنجاب یونیورسٹی کو خاطر خواہ فنڈز فراہم کرے تو یہ یونیورسٹی اگلے چار سال میں کیو ایس کی ٹاپ 300 یونیورسٹیوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button