انٹر نیشنلتازہ تریندلچسپ و عجیب

دبئی کا شہزادہ بن کر دھوکے باز نے خاتون کو لوٹ لیا

مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو دبئی کا شہزادہ ظاہر کرنے والے ایک آن لائن دھوکےباز نکلا

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک ) مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو دبئی شہزادہ ظاہر کرنے والے ایک آن لائن دھوکے باز نے خاتون کو محبت کے جال میں پھنساکر اس کی سال بھر کی جمع پونجی ہتھیا لی۔

متاثرہ خاتون، جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ اس کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ پر خود کو شہزادہ حمدان ظاہر کرنے والے شخص سے ہوئی۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان واٹس ایپ پر گفتگو شروع ہوئی، جہاں مبینہ شہزادہ مسلسل محبت بھرے پیغامات بھیجتا اور ویڈیو کالز بھی کرتا تھا۔

خاتون کے مطابق ویڈیو کالز میں نظر آنے والا شخص بالکل حقیقی دکھائی دیتا تھا، اس کے ہونٹ آواز کے ساتھ مطابقت رکھتے تھے، تاہم آواز اصل شہزادے کی نہیں تھی۔ خاتون نے بتایا کہ ابتدا میں اسے کسی قسم کے فراڈ کا شبہ نہیں ہوا اور وہ اس شخص کے عشق میں مبتلا ہوگئی۔دھوکے باز نے خاتون کو شادی کا سرٹیفکیٹ اور دبئی میں ملازمت دلانے کے لیے مبینہ ’’رائل ممبرشپ کارڈ‘‘ بنوانے کا جھانسہ دے کر ایک لاکھ فلپائنی پیسو (تقریباً 1,625 امریکی ڈالرز) وصول کر لیے۔

خاتون کو اس وقت شک ہوا جب ملزم نے ہوٹل میں ملاقات کی پیشکش کرتے ہوئے بکنگ کے لیے مزید 60 ہزار پیسو (974 امریکی ڈالرز) طلب کیے۔ تحقیقات پر معلوم ہوا کہ اس کا فیس بک اکاؤنٹ نائیجیریا سے چلایا جا رہا تھا، جس کے بعد خاتون نے رابطہ منقطع کرتے ہوئے آخری پیغام میں لکھا، ’’جہنم میں جاؤ، دھوکے باز!‘‘

تحقیقات کے مطابق یہ دھوکہ دہی ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں مجرم دبئی کے ولی عہد کی تصاویر، شاعری اور سوشل میڈیا موجودگی کو استعمال کرکے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر متعدد جعلی فیس بک گروپس اور واٹس ایپ و ٹیلیگرام اکاؤنٹس بھی اسی مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس فراڈ کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل میڈیا پر ’’Do not fall for fake prince‘‘کے نام سے مہم بھی شروع کی گئی ہے، جبکہ ’’Stop Fazza Scam‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن درخواست میں دبئی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو اس قسم کے فراڈ سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button