سٹیصحت

مسائل کے باوجود خواتین کو ترقی کے وافر مواقع میسر ہیں، ڈاکٹر جمال ناصر

ہر شعبہ میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا ہے، ڈاکٹر جمال ناصر

وقارالنساء پوسٹ گریجویٹ کالج میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب

لاہور(خبر نگار)صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جمال ناصر نے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے گورنمنٹ وقارالنساء پوسٹ گریجویٹ کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ‘صنفی مساوات کے لئے جدت اور ٹیکنالوجی’ کے عنوان سے یہ تقریب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب ،پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور ڈائریکٹریٹ ویمن ڈیولپمنٹ کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس نازیہ پروین سدھن بھی اس میں شریک ہوئیں۔ تقریب سے کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور معاشی خودکفالت کے بغیر ملک کی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے باوجود ملک میں خواتین کو ترقی اور آگے بڑھنے کے وافر مواقع میسر ہیں اور آج زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا یے۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ملک میں بتدریج خواتین کے حقوق کے متعلق آگاہی بیدار ہوئی ہے اور انکو ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل، انجینرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سول سروس، بزنس اور انڈسٹری سمیت ہر شعبہ میں خواتین نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ انکی شمولیت سے ہر شعبہ میں بہتری آئی ہے۔
ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس نازیہ پروین سدھن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام طالبات کو کالج کے دوران ہی کچھ سکلز سکھا دینی چاہیے تاکہ فارغ التحصیل ہونے کے فورا بعد انہیں کوئی کام ڈھونڈنا نہ پڑے بلکہ یہ آن لائن ہی اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو جائیں۔

سیکریٹری ویمن ڈویلپمنٹ پنجاب سمیرا صمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبائی مرض کرونا کے بعد سے عالمی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اسے اب تفریح کے علاوہ اسے کام اور سیکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں خواتین لے لئے ڈیجیٹل خواندگی اتنی ہی ضروری ہے جتنی روایتی خواندگی۔
مینیجر ویمن ڈویلمنٹ سدرہ اقبال نے کہا کہ خواتین کے ڈیجیٹلی ایکٹو نہ ہونے کی وجہ سے، پچھلی دہائی میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل شعبے میں خواتین کی شرکت صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سسٹینیبل ترقی کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔اس موقع پر خواتین خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے حوالے سے ماہرین پر مشتمل پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جیسے دنیا مزید ڈیجیٹل ہو رہی ہے ایسے میں ہماری خواتین بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں جس کے ملکی معیشیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تقریب کے اختتام پر خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات بھی دیئے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button