پاکستانسٹی

"ڈیجیٹال: صنفی مساوات کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی” کے عنوان سے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے تقریب کا انعقاد

صنفی مساوات اور معاشی استحکام کے لئے خواتین کا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے روشناس ہونا بہت ضروری ھے

ڈیجیٹل شعبے میں خواتین کی شرکت صرف صنفی مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سسٹینیبل ترقی کے لئے بھی انتہائی اہم ہے

خواتین کے ڈیجیٹلی ایکٹو نہ ہونے کی وجہ سے، پچھلی دہائی میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو 1 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچا

لاہور (خبر نگار) محکمہ ترقی خواتین کی جانب سے انٹرنیشنل ویمن ڈے کے حوالے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں "ڈیجیٹال: صنفی مساوات کے لیے جدت اور ٹیکنالوجی کا استعمال” کے عنوان سے موضوع زیر بحث رہا جسکا مقصد خواتین کی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریب میں مختلف محکموں کے سیکرٹیز، فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس اور یونائیٹیڈ نیشن فنڈ فار پاپولیشن ایکٹیویٹیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب احمد رضا سرور بطور مہمان خصوصی تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب میں ویمن ڈویلپمنٹ ہیلپ لائن ۱۰۴۳ میں بہتری لانے کے لئے نئے ایس او پیز متعارف کروائے گئے جو کہ روزان، یو این ایف پی اے، ڈبلیو ڈی ڈی پنجاب کی مشترکہ مشاورت سے تیار کیے گئے تھے۔ ان ایس او پیز کا مقصد تشدد سے بچ جانے والی خواتین اور لڑکیوں کے لیے بروقت، موثر اور قابل رسائی خدمات کو یقینی بنانا ہے۔

سیکریٹری ویمن ڈویلپمنٹ پنجاب سمیرا صمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا واحد مقصد اس بات کی اہمیت کو سمجھنا ہے کہ عورت چاہے شہری ہو یا دیہی، پڑھی لکھی ہو یا ناخواندہ، گھر سے باہر ہو یا گھر کی چاردیواری میں، معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ہو یا دور دراز علاقے کی رہائشی ہو کیسے تکنیکی مہارت حاصل کر کے وہ خود کو بااختیار بنا سکتی ہے۔ محکمہ ترقی خواتین مختلف طریقوں سے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا رہا ہے اور ہمیشہ جدت کے لیے تیار رہا ہے۔ پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی ہیلپ لائن، 1043 ٹیکنالوجی کا ایک ایسا ہی استعمال ہے۔ ہیلپ لائن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال ۲۰۲۲ میں اس ہیلپ لائن پر مختلف نوعیت کی ۲۳۰۰۰ کالز موصول ہوئیں۔ جن میں سب سے کالز گھریلو تشدد اور جائیداد کے تنازعہ سے متعلق تھیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کی 15 اور خواتین کے خلاف تشدد کے مرکز، ملتان کی 1737 جیسی دیگر ہیلپ لائنیں بھی کام کر رہی ہیں۔ 2012 میں ڈبلیو ڈی ڈی کے قیام کے بعد سے محکمے نے ڈے کیئر سینٹرز، ورکنگ ویمن ہاسٹلز، پبلک سیکٹر محکموں کی ٹریننگز اور جینڈر مین سٹریمنگ جیسے اہم اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پچھلے کچھ سالوں میں کچھ اہم قانون سازی کی ہے جس میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010 اور پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2021 شامل ہیں اب وقت سب سے زیادہ توجہ طلب معاملہ ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ صنفی مساوات اور معاشی استحکام کے لئے خواتین کا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے روشناس ہونا بہت ضروری ھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سرکاری محکموں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کو لیڈ کرتے ہوئے دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے۔ یہی خواتین ہمارا مستقبل ہیں جو ملک کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

یو این ایف پی اے کے کنٹری ریپریزینٹیٹو ڈاکٹر لوئے شبانے کا کہنا تھا کہ خواتین کا معاملہ کا معاملہ ہے اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، ہمیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں سائبر ہراسمنٹ بھی شامل ہے۔ حقوق کے حوالے سے قانون سازی اور آگاہی کی ضرورت ہے۔ ہمیں نچلی سطح پر سماجی اصولوں میں تبدیلی کے ساتھ آغاز کرنا ہوگا۔ ہمیں سب کو شامل کرنے کے لیے اجتماعی اور مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا جس میں اثر و رسوخ رکھنے والے، کمیونٹی لیڈرز اور مذہبی رہنما شامل ہیں۔ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ہمیں خواتین کے معاملات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کے حوالے سے ماہرین پر مشتمل پینل ڈسکش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے دنیا مزید ڈیجیٹل ہو رہی ہے ایسے میں ہماری خواتین بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کریں جس کے ملکی معیشیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تقریب کے اختتام خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے نقد انعامات بھی دیئے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button