کالم

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی

تحریر انور خان لودھی

سپریم کورٹ میں دو صوبوں میں الیکشن سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا گیا۔ کیس ختم ہوگیا لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ کہانی کیسے آگے بڑھے گی، دھند چھٹنے کا نام کیوں نہیں لے رہی۔ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے سے پہلے سپریم کورٹ میں منگل کا منظر دیکھتے ہیں جہاں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کے آٹھ اکتوبر کو انتخابات کروانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو کروائے جائیں۔ فیصلے کے چند گھنٹوں بعد وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا گیا اور اچھی یا بری لیکن منفرد مثال پیش کی گئی کہ حکومت عدالت کے فیصلے کو رد بھی کرسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں الیکشن کمیشن کے آٹھ اکتوبر کو انتخابات کروانے کے 22 مارچ کے حکمنامے کو ’غیرآئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے ’دائرہ اختیار سے تجاوز‘ کیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب کے منسوخ کردہ الیکشن شیڈول پر عملدرآمد ہو گا جبکہ خیبرپختونخوا کے بارے میں صورتحال دیکھ کر مناسب فورم پر فیصلہ ہو گا۔ عدالت عظمٰی نے تھوڑی بہت ترامیم کے بعد پنجاب کے الیکشن شیڈول کی تفصیلات کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنادیا اور وفاقی حکومت کو 10 اپریل تک انتخابات کے لیے درکار 21 ارب روپے جاری کرنے، الیکشن کمیشن کو فنڈز کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ 11 اپریل کو سپریم کورٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا ۔ اسی طرح وفاقی اور پنجاب کی نگراں حکومتوں کو اس ضمن میں اقدامات اٹھانے کی ٹائم لائن بھی دی۔ سپریم کورٹ نے جہاں الیکشن التوا کیس میں پنجاب میں 14 مئی کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے معاملے پر مناسب فورم پر دوبارہ آئینی درخواست دائر کرنے کو بھی کہا۔
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بھی آٹھ اکتوبر کو ہی الیکشن کروانے کا حکم دیا ہوا ہے تاہم سپریم کورٹ نے فی الحال اسے منسوخ نہیں کیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست 27 مارچ کو سماعت کے لیے منظور کی اور اسی روز پہلی سماعت کی، 8 دنوں میں 6 سماعتیں ہوئیں۔ کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان نے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا، جس میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔ جسٹس امین الدین خان نے 30 مارچ کو کیس سننے سے معذرت کی، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے 31 مارچ کو کیس سننے سے معذرت کر لی تھی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن کے وکلاء کے دلائل سنے، پنجاب، کے پی کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی دلائل دیے، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ نے عدالتی حکم پر پیش ہو کر سیکیورٹی اور فنڈز پر جوابات دیے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے کر الیکشن کمیشن کی وکالت کرنے والے عرفان قادر اور ان کے ساتھی وکیل سجیل سواتی نے بھی دلائل دیے۔ ادھر فیصلہ آیا ادھر فریقین نے کمانیں سنبھال لیں اور جی بھر کر طنز اور تنقید کے تیر برسانا شروع کردئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا اور الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے اقلیتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کابینہ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل عمل نہ ہونے کی رائے دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی بھی گرجے اور کہا کہ تاریخ کی ستم ظریقی ہے کہ چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا اور آج ایک مرتبہ پھر چار اپریل کو ہی عدل و انصاف کا قتل ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عدالت قتل کا جو ریفرنس 12 سال سے پڑا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس حوالے سے فل کورٹ بیٹھے اور فیصلہ کرے۔ پوری دنیا سمجھتی ہے کہ یہ 1973 کے متفقہ آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا ایک عدالتی قتل تھا اور یہ کہ فیصلہ کرنے والے ایک جج نے بھی بعد میں اپنی یادداشت میں اس بارے میں اعتراف کیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی سیخ ہا نظر آئے اور بولے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔ قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ضدی شخص کی انا کی تسکین کے لیے دو صوبائی اسمبلیاں توڑی گئیں۔ اسمبلیاں توڑنے کا مقصد ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم پیدا کرنا تھا۔ وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دراڑ ہے اور اسے کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں گذشتہ ہفتے ایک قرار داد منظور کی کہ ملک میں انتخابات کو شفاف کرانے اور اس کے لیے ساز گار ماحول بنانے کے لیے یہ کہا گیا کہ ملک میں ایک ساتھ نگران سیٹ اپ کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔ ہم نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ آپ کے عدل کے ایوان میں تقسیم ہے اور آپ اپنے ایوان کو اکٹھا کریں اور ہاتھ جوڑ کر استدعا کی کہ معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
حکومت کو سپریم کورٹ کا فیصلہ پسند نہیں آیا۔ وفاقی کابینہ کا است مستد جرنا اور وزرا کا اس فیصلے ہر کڑی تنقید کرنا بہت کچھ بتا رہا یے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اصولی طور پر عدالت عظمٰی کا فیصلہ ہر ایک کو ماننا ہی پڑے گا۔ وفاقی کابینہ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ الیکشن کے اخراجات کے ضمن میں حکومت پر فنڈز کی فراہمی اور سیکورٹی فورسز کی دستیابی واجب ہے۔ سپریم کورٹ حکم نہ ماننے کی صورت میں وزیر اعظم اور کابینہ کو گھر بھی بھیج سکتی ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی الیکشن نہ کرانے کیلئے ہزار عذر ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ محکمہ خزانہ کو 10 اپریل تک الیکشن کیلئے 20 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم آیا ہے۔ اسی طرح سیکورٹی کی فراہمی بھی فیصلے کا حصہ ہے۔ حکومت یہ دونوں کام کرنے میں رکاوٹ بن سکتی یے۔ الیکشن کمشن جب گیارہ اپریل کو سپریم کورٹ کو جا کر رپورٹ کرتی ہے کہ فنڈز ملے ہیں نہ سیکورٹی کی ضمانت تو عدالت پھر ان محکموں کے سیکریٹریوں کو بلائے گی، رپورٹ مانگے گی، بحث و تمحیص، قانونی موشگافیوں اور بنچو بنے اور ٹوٹنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی تقسیم کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی۔ حکومت نے کسی ایک یا زیادہ ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کردیا تو معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جاسکتا ہے۔ وہاں حکومت کے حامی ارکان کی اکثریت کی صورت میں کچھ ججز کو غیر فعال کیا جاسکتا ہے جس سے چیف جسٹس آف پاکستان کو مستقبل میں بنچوں کی تشکیل میں دقت ہو سکتی یے۔ الیکشن کمشن کے کچھ ارکان استعفیٰ دے جر کمشن کو نامکمل بنا سکتے ہیں جس سے الیکشن کے التوا کا جواز مل جائے گا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کو ٹالنے کیلئے حکومت کے پاس بہت سے راست ہوتے ہیں۔ دیہات میں سیانے ایک بات کہتے ہیں کہ پنچائت زور بھی لگا لے جس عورت نے نہ بسنے کا تہیہ کر لیا ہو وہ نہیں بستی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر لیکن کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button