تعلیمسٹی

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اصولی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان

یونیورسٹیوں میں قرآن کی تعلیم لازمی قراردینے کے فیصلے پر طلباء کا اظہارِ اطمینان

نظریاتی مملکت کے نوجوانوں کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش خوش آئند ہے، شکیل احمد ناظم اعلیٰ

لاہور( خبر نگار ) ہائیرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں مسلمان طلبہ و طالبات کے لیے قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کے فیصلے پر طلبہ نے مسرت کا اظہار کیا ہے، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے اس فیصلے کو قوم کی امنگوں کے عین مطابق قرار دیا ہے۔ جمعیت کے ناظم اعلیٰ شکیل احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جامعات میں قرآن کی تعلیم لازمی کا فیصلہ خوش آئند ہے اور وہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نفاذ میں پوری طلبہ برادری ایچ ای سی سے بھرپور تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک کے نظام تعلیم میں اسلامی نظریے کی ترویج طلبہ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چند روز پہلے سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹر مشتاق احمد نے جو بل اسلامی تعلیمات کے حوالے سے پیش کیا تھا، ایچ ای سی نے اس تسلیم کرکے اس پر باقاعدہ احکامات جاری کیے ہیں۔
واضح رہے ک ایچ ای سی کے فیصلے کے تحت جامعات کی سطح پر قرآن فہمی کے خصوصی کورسز متعارف کروائے جائیں گے، جس میں ہر مسلمان طالب علم کی شرکت لازمی ہو گی۔ جامعات کے وائس چانسلرز کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button