سٹیصحت

ماہرین کی جانب سے لاہور اور راولپنڈی میں تمام بچوں کو خسرہ ویکسین لگانے کی تجویز

عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2023 کے موقع پر صوبہ میں بیماریوں کے اعدادوشمار کا تفصیلی تجزیہ

لاہور (خبر نگار) پاکستان کے معروف ماہرین اطفال اور حفاظتی ٹیکہ جات کے ماہرین نے لاہور اور راولپنڈی میں خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر فوری طور پر قابو پانے کے لئے ان دو شہروں میں تمام بچوں کو فوری ویکسین لگانے کی تجویز دی ہے
عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2023 اور خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل کی سربراہی میں گزشتہ روز تکنیکی ماہرین کااعلی سطحی اجلاس ہوا
صوبائی سٹئیرنگ کمیٹی کا یہ اجلاس ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں منعقد کیا گیا جس میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2023 کے لیے سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا یہ ہفتہ ہر سال 24 سے 30 اپریل تک دنیا بھر میں منایا جاتا ہے سال 2023 کا موضوع ‘بڑا کیچ اپ’ ہے۔
اجلاس میں سابق چیئرمین نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ پروفیسر طارق اقبال بھٹہ، یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبہ اطفال سے پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید، معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شکیلہ زمان، سربراہ شعبہ زچہ و بچہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ حمید، صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق میاں، ڈائریکٹر صوبائی پروگرام برائے زچہ و بچہ ڈاکٹر خلیل احمد سکھانی، ڈائریکٹر پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد، ڈائریکٹر سی ڈی سی اور ای پی سی ڈاکٹر یاداللہ، ماہر اطفال علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر سلطان علی، عالمی ادارہ صحت سے ٹیکنیکل آفیسر ڈاکٹر عمران قریشی، عالمی ادارہ صحت کے پولیو سربراہ برائے پنجاب ڈاکٹر عامر احسان (او آئی سی)، یونیسیف امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر قرۃ العین، نمائندہ گیٹس فاؤنڈیشن ڈاکٹر نعیم مجید، وزیر اعلی روڈ میپ ٹیم کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے نمائندگان نے شرکت کی
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب، ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا صوبہ بھر میں مربوط آؤٹ ریچ سرگرمی جاری ہے جس میں خسرہ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ اس سال عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے موضوع دی بگ کیچ اپ کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے ہر بچے کو ویکسین لگانے لئے اس سرگرمی کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ سرگرمی عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی اور مالی تعاون سے اپریل 2023 کے پورے مہینے میں جاری ہے۔ کم کوریج والی یونین کونسلز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بھی قسم کی ویکسین نہ لینے والے بچوں/ اور رہ جانے بچوں کے علاوہ کرونا ویکسینیشن کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے۔
ڈائریکٹر پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد نے کہا دنیا بھر میں ہر سال 24 سے 30 اپریل تک عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات منایا جاتا ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچانے میں ویکسین کے کردار کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔ویکسین انسانی تاریخ میں اب تک متعارف کرائی جانے والی صحت عامہ کی سب سے اہم پیش رفت ہے۔۔ اس وقت صوبے کی 3407 یونین کونسلوں میں 4486 ویکسی نیٹرز سوشل موبلائزرز کے ساتھ اس خصوصی سرگرمی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس سرگرمی میں 586 سپروائزر مصروف عمل ہیں جن میں ڈی ایچ او پی ایس، ای پی آئی فوکل پرسن، ڈی ایس وی اور اے ایس وی شامل ہیں۔ اس سرگرمی میں ویکسینیٹر ایک طے شدہ ٹور پلان کے تحت دیہاتوں اور کمیونٹیز کا دورہ کرتا ہے اور ویکسین لگاتا ہے ، سوشل موبلائزرز لوگوں کے ساتھ خدمات کی دستیابی میں مدد کرتے ہیں اور ای پی آئ سپروائزرز اور مینیجرز نگرانی کرتے ہیں۔ ایل ایچ وی فکسڈ مراکز پر ویکسی نیشن کی خدمات فراہم کرتی ہیں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز زچہ و بچہ سے متعلق سہولیات کی فراہمی میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ پولیو کا عملہ نشاندہی کرتا ہے۔ پری ونٹو آؤٹ ریچ ٹیم شہریوں تک پہنچ جانے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔
ڈاکٹر مختار نے اعدادوشمار کے تجزیہ کی بنیاد پر ویکسینیشن کے شیڈول میں نظر ثانی کی تجویز دی جسے ابتدائی طور پر منظور کیا گیا ۔ تجویز کو اب باقاعدہ طور قومی تکنیکی گروپ میں پیش کیا جائیگا ۔ٹیکنیکل آفیسر عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر عمران قریشی نے بیماریوں کی نگرانی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ نگرانی کے مضبوط نظام کی وجہ سے پنجاب صوبے سے اب زیادہ کیسز رپورٹ کر رہا ہے۔

صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق میاں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ممکنہ پرائیویٹ سیکٹر کے ہسپتالوں میں مزید فکسڈ ای پی آئی سینٹرز قائم کی تجویز دی۔ پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید نے صوبے میں متعدی امراض کے ہسپتال کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ بیماریاں پھیلانے والے جرثوموں کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیلہ زمان نے ان نکات کی نشاندھی کی جن پرفوری تحقیق کی ضرورت ہے
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر مختار احمد نے سب کا شکریہ ادا کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button