سٹی

سندھ کے شہر شکار پور میں ہزاروں افراد کی ماحولیاتی انصاف مارچ میں شرکت کی

شکار پور (خبر نگار)

سندھ کے شہر شکار پور میں ہزاروں افراد نے ماحولیاتی انصاف مارچ میں شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ امیر ممالک فوری طور پر پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے وعدوں کو پورا کریں۔ سندھ حکومت تمام بے زمین کسانوں، ہاریوں اور چھوٹے زمینداروں سمیت سیلاب اور بارشوں کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرے۔ سیلاب متاثرین کے مکانات کی تعمیر کے لیے 75 ہزار روپے کی بجائے فی گھر کم از کم 10 لاکھ روپے ادا کئے جائیں جبکہ فوسل فیول سے بجلی کی پیداوار بند کی جائے اور بجلی بحران حل کرنے کیلئے ہر گھر کو سولر پینل لگانے کیلئے کم از کم 5 لاکھ روپے دیے جائیں۔

مظاہرے کا اہتمام پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور ہاری جدوجہد کمیٹی نے کیا۔ سندھ کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں افراد قافلوں کی صورت میں ماحولیاتی انصاف مارچ میں شریک ہوئے۔

دوسری جانب 15 ستمبر کو ایشیاء کے درجنوں ممالک میں ماحولیاتی انصاف مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ فاسل فیول کے خاتمے کے فوری اور منصفانہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ ایشیاء بھر میں یہ مظاہرے اس وقت منعقد ہوئے جب دنیا بھر میں لاکھوں افراد 15 سے 17 ستمبر کے دوران مظاہروں میں شریک ہو کر فاسل فیول کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شکار پور میں مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور حقوقِ خلق پارٹی کے صدر فاروق طارق نے کہا کہ، "امیر ممالک حسب معمول وعدوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، پاکستان میں سیلاب اور بارشوں سے تباہی امیر ممالک کی عالمی سطح پر پھیلائی ماحولیاتی گندگی کی وجہ سے ہوئی۔ کوپ 27 میں کئے گئے معاہدے کے مطابق امیر ممالک پاکستان کو فوری طور پر 10 ارب ڈالر ادا کریں اور پاکستانی حکومت اس رقم سے تمام سیلاب زدگان کی فوری بحالی کے اقدامات اٹھائے۔”

فاروق طارق نے مزید کہا کہ, "سندھ میں بے زمین کسانوں اور ہاریوں کو معاوضہ دینے کی لسٹ سے باہر کرنا سراسر نا انصافی اور استحصال ہے، ہاریوں کے تمام نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے

ہا کہ رک پمپ سٹیشن گڑھی یٰسین کو فوری طور پر 24 گھنٹوں کیلئے چلانا شروع کیا جائے، جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے جبکہ بے زمین ہاریوں اور کسانوں میں زمین مفت تقسیم کی جائے۔”

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہاری جدوجہد کمیٹی کے مرکزی رہنما علی کھوسو نے کہا کہ، "شکار پور میں تاریخی ریلی ہوئی ہے اور ہم ماحولیاتی انصاف مانگنے آئے ہیں۔ ہمارے نقصانات کا فوری طور پر مداوا کیا جائے۔”

حقوقِ خلق پارٹی سندھ کے آرگنائزر مجیب پیرزادو نے کہا کہ، "ہم محنت کش عوام کو منظم کر کے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ سندھ کے سیلاب زدگان ابھی تک کیمپوں میں ہیں، حکومت نے ان کے گھروں کی تعمیر کی بجائے انہیں صرف 75 ہزار دینے کا اعلان کیا ہے حالانکہ مہنگائی کے اس دور میں 75 ہزار میں ایک کمرہ تعمیر کرنا نا ممکن ہے ہمارا مطالبہ ہے انہیں 20 لاکھ روپے فی گھر ادا کیا جائے۔”

ایشیائی پیپلز موومنٹ آن ڈیبٹ اینڈ ڈویلپمنٹ (APMDD) کے کنٹری ہیڈ ضیغم عباس نے کہا کہ ماحولیاتی انصاف بنیادی انسانی حق ہے اور اسی نقطہ نظر سے پچھلی ایک صدی کی صنعتی ترقی اور سرمایہ داری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امیر ممالک خصوصا عالمی شمال نے بے پناہ دولت اور ترقی کے حصول میں بنیادی انسانی حقوق کو روند ڈالا ہے۔ جس طرح اٹھارویں اور انیسویں صدی میں نوآبادیات نے مختلف ممالک کا استحصال کیا بالکل اسی طرح سے آج ہم ایک ماحولیاتی نو آبادیات کا بھی شکار ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ، "ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ تمام امیر ممالک جن کی ترقی میں اس ماحولیاتی نوآبادیاتی نظام کو پروان چڑھایا ہے وہ غریب ممالک کی ماحولیاتی تلافی کریں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عالمی شمال انحطاط کی طرف بڑھے اور عالمی جنوب کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے بنیادی ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button