سٹی

لیسکو کی جانب سے بجلی چوروں کے خلاف جاری آپریشن کوچھتیس روز مکمل

اب تک کی کارروائیوں میں 5ہزار300 سے زائد بجلی چورگرفتار کرلیے گئے۔

لاہور (خبر نگار)
وزیرِ اعظم پاکستان اور وزارت توانائی کی ہدایات پر لیسکو کے چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر کی زیر نگرانی لیسکو کے بجلی چوروں کیخلاف آپریشن کو 36مکمل ہوگئے۔ لیسکو ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق لیسکو ریجن میں چھتیس روز کے آپریشن کے دوران کل 5341 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، مجموعی طور پر16994 کنکشن بجلی چوری میں ملوث پائے گئے،16851 کنکشن کیخلاف ایف آئی آر کی درخواستیں جمع کروائی گئیں جن میں سے15786درخواستیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔۔بجلی چوروں کو اب تک35161099 (تین کروڑاکاون لاکھ اکسٹھ ہزارننانوے) یونٹس چارج کئے گئے ہیں جن کی قیمت1557111360(ایک ارب پچپن کروڑاکہتر لاکھ گیارہ ہزارتین سو ساٹھ روپے) ہے۔
لیسکو میں چھتیسویں روز کے آپریشن کے دوران تمام اضلاع میں 467 کنکشنز بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔465 بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آرز کی درخواستیں متعلقہ تھانوں میں دائر کر دی گئی ہیں جن میں سے284ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہو چکی ہیں جبکہ 72 ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، پکڑے جانے والے کنکشنز میں کمرشل11، زرعی 5اور451 ڈومیسٹک تھے۔ تمام کنکشنز منقطع کرکے ان کو880460(آٹھ لا کھ اسی ہزاچار سوساٹھ) یونٹس ڈٹیکشن بل کی مد میں چارج کئے گئے ہیں جن کی مالیت37473986 (تین کڑور چوہترلاکھ تہتر ہزارنو سوچھیاسی) روپے ہے۔
بجلی چوروں کیخلاف کئے جانے والے آپریشن میں بڑے کمرشل صارفین بھی بجلی چوری میں ملوث پائی گئے۔ ان تمام کے کنکشنز بھی منقطع کئے گئے اور ان کو ڈٹیکشن یونٹس چارج کئے گئے۔ڈیوس روڈ کے علاقے میں کنکشن کو18250یونٹس (1209561) روپے،شیرا کوٹ میں کنکشن کو900 یونٹس(650000)روپے،فیکٹری ایریا میں 12500 یونٹس560000 روپے اورفیکٹری ایریا میں ہی ایک اور کنکشن کو9800یونٹس،450000کی رقم چارج کی گئی ہے۔
واضح رہے بجلی چوروں کیخلاف آپریشنز وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق کیئے جا رہے ہیں اور چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر بذاتِ خود ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیسکو چیف کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے تک بلا تفریق گرینڈ آپریشن جاری رہے گا۔ آپریشن کے دوران بجلی چوروں کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنیوالے لیسکو افسران و ملازمین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button