یوکرین کے تین مقامات پر حملے کے لیے تیار تھے، لیکن معذرت کے بعد کارروائی روک دیں، محسن رضائی

ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپیئن میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرین کے حملے کے بعد ایران کی مسلح افواج یوکرین کے تین مقامات پر حملے کے لیے تیار تھیں، تاہم یوکرین کی جانب سے ’معذرت‘ کے بعد یہ فیصلہ روک دیا گیا۔
محسن رضائی نے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے آخری دنوں میں ’امریکی اڈوں پر ایران کے زیادہ درست ڈرون اور میزائل حملوں‘ کے نتیجے میں ’کویت کے اڈے کو شدید نقصان‘ پہنچا، امریکی فوجیوں نے ’عراق کے علاقے اربیل کو چھوڑ دیا‘ اور سینٹکام کے کمانڈروں کو ’اردن سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا۔‘ یہ وجوہات امریکہ کے زمینی حملے کے لیے ایک رکاوٹ ثابت ہوئیں۔
ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی کمان سنبھالنے والے رضائی نے امریکہ کے ساتھ موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز کے کردار کے بارے میں کہا کہ ہم کسی صورت یہ نہیں ہونے دیں گے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے راستے کے علاوہ کوئی اور راستہ کھولا جائے۔ اگر امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنا جہاز بھی لے آئے تو ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔







