
جسٹس علی باقر نجفی نے صنم جاوید کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پہلے صنم جاوید کو پولیس نے گرفتار کر لیا، پھر کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ہمیں پتا چلا کہ انہیں تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
صنم جاوید کو کیس میں ضمانت ملی تو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ ہمیں یقین دہانی کروائی جائے کہ انہیں دوبارہ گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
لاہور ہائی کورٹ نے سرکاری وکیل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔







