
67 این جی اوز کے ساتھ ایم او یوزر سائن، 19 ٹرانسجینڈرز، ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار 53 خصوصی افراد کی مدد کی،. 90 ولنر ایبل افراد کی رجسٹریشن کی، 05 ٹرانسجینڈرز کے لرنر و ریگولر ڈرائیونگ لائسنس بنوائے۔438 خواتین کو کریکٹر سرٹیفیکیٹ فراہم اور جنرل پولیس ویری فیکیشن کی گئی، 01 ضرورت مند لڑکی کو سلائی مشین مہیا کی گئی۔
لاہور (خبر نگار) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس میں تحفظ مرکز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تحفظ مرکز چکوال نے اپنی کارکردگی بارے آئی جی پنجاب کو بریفنگ دی۔ آئی جی پنجاب نے تحفظ مرکز چکوال کے عملے، مستفید ہونے والے شہریوں، بچوں، ٹرانسجینڈرز اور این جی اوز کے سربراہان سے بھی ملاقات کی۔ انچارج تحفظ مرکز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تحفظ مرکز چکوال نے قیام سے اب تک 1368 افراد کو سماجی تحفظ فراہم کیا، 67 این جی اوز کے ساتھ ایم او یوزر سائن، کئے، 19 ٹرانسجینڈرز اور ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار 53 خصوصی افراد کی مدد کی، 47 افراد کو بن قطب فاؤنڈیشن بیگم نور میموریل کے تعاون سے ویل چئیرز فراہم کی گئیں۔ 49 ضرورت مند بچوں کو کمپیوٹر کورسز کروائے، دو مختلف میڈیکل کیمپوں میں سینکڑوں لوگوں کا فری علاج کیا گیا۔ غریب اور مستحق افراد میں 25 ہیلمٹ تقسیم، 01 غریب لڑکی کی شادی کروائی گئی۔ نشے کے عادی 07 افراد کا علاج کروایا اور 01 گمشدہ بچے کو والدین سے ملوایا، 222 افراد کے محتلف تھانہ جات میں ریفر کرکے کرائم کے متعلق مسائل حل کروائے۔ 90 ولنر ایبل افراد کی رجسٹریشن کی، 05 ٹرانسجینڈرز کے لرنر و ریگولر ڈرائیونگ لائسنس بنوائے۔ 438 خواتین کو کریکٹر سرٹیفیکیٹ فراہم اور جنرل پولیس ویری فیکیشن کی گئی، 01 ضرورت مند لڑکی کو سلائی مشین مہیا کی گئی۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تحفظ مرکز چکوال کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دائرہ کار مزید بڑھانے کی ہدایت کی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پولیس تحفظ مراکز کمیونٹی پولیسنگ کے حوالے سے پنجاب پولیس کا برینڈ پراجیکٹ ہیں لہذا پولیس تحفظ مرکز کے پلیٹ فارم سے زیادہ سے زیادہ شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔







