
اس حوالے سے دو الگ الگ درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی ہیں، محمود خان اور محمد مزمل نے درخواستیں دائرکی ہیں جن میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشنز کالعدم قرار دئیے جائیں۔ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے بھی انٹرا پارٹی انتخابات چیلنج کردیے
میڈیا سے گفتگو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ آج ہم پھر الیکشن کمیشن میں حاضر ہوئے ہیں، مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے جو تازہ فراڈ کیا ہے اس کے خلاف درخواست دینے آئے ہیں، ہمیں امید تھی کہ یہ پارٹی اپنے ورکروں کو ان کا حق دے گی۔
مجھے کہا جاتا ہے پارٹی الیکشن میں آپ نے کیوں حصہ نہیں لیا؟ میں نے پریس کانفرنس کر کے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اپنا ایک وکیل مقر کریں ایک ہم کریں گے، ہم نے 25جنوری کو ایک سیمینار کا انعقاد کرویا تھا اس میں پیشکش بھی کی تھی مگر مجھے اس انٹرا پارٹی الیکشن سے دور رکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جواب کی لیڈر شپ ہے یہ صبح کسی کے ساتھ دوپہر کسی اور رات کو کسی جماعت کے ساتھ ہوتی ہے، جب سپریم کورٹ نے 13 جنوری کے فیصلے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے تائید کی تو اس سے واضح ہوا کہ یہ خود ساختہ قیادت ہے
اکبر ایس بابر نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں انہوں نے لکھ کر دیا کہ ہمارے پارٹی کے ساڑھے 8لاکھ ووٹ ہیں مگر الیکشن میں 940 ممبران نے ووٹ ڈالا۔







