پاکستانسٹیکاروبار

حکومت، ویٹرنری ادویات اور فیڈ پر جی ایس ٹی فی الفور واپس لے

لاہور(کامرس رپورٹر) ویٹرنری فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن، فارمرز، فارماسیوٹیکل سٹیک ہولڈرز، پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن، ٹریڈرز، مینو فیکچررز اور امپورٹرز کے وفود نے لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور نائب صدر لاہور چیمبر عدنان خالد بٹ سے ملاقات کی۔
وفد میں صدر پنجاب ٹریڈرز ایسوسی ایشن طارق جاوید، چئیرمین پنجاب ٹریڈرز ایسوسی ایشن رانا قاسم اقبال، کو کنوینر ویٹرنری فارما سیوٹیکل ایسوسی ایشن ندیم یوسف، کنوینر ویٹرنری فارما سیوٹیکل ڈاکٹر صالح محمود، سیکٹری ویٹرنری فارما سیوٹیکل ڈاکتر ماجد اعجاز، سابقہ چئیرمین رائے منصب علی کھرل، صدر ٹولنٹن مارکیٹ جاوید اقبال، صدر پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن طارق جاوید، نائب صدور پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن میاں عقیل، چوہدری شکیل، چئیرمین ریٹ کمیٹی مہر عرفان، رانا قاسم اقبال، میاں شہباز و دیگر موجود تھے۔
وفود کے نمائیندگان نے ویٹرنری فارما سیکٹر کو درپیش مسائل سے نائب صدر کا آگاہ کیا اور بتایا کہ ملک میں اس وقت 22 ہزار سے زائد فارما کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں حکومت نے فیڈ کے اوپر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کر دیا ہے جبکہ ویٹرنری میڈیسن پر جنرل سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔ وفود کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حالیہ مجوزہ اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے وگرنہ پولٹری کے ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ ہو جائیں گے اور عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں فیڈ اور ویٹرنری میڈیسن پر جنرل سیلز ٹیکس زیرہ ریٹڈ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اس اضافے سے انکی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا اور افغانستان سمیت دیگر مارکیٹس پاکستانی ایکسپورٹرز کے ہاتھ سے نکل کر بھارت اور دیگر ممالک میں چلی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستانی ایکسپورٹرز کا پوٹینشل ختم ہو جائے گا اور فارمز کی ایکٹیویٹی بھی ختم ہو جائے گی جس سے روز گار کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 18 فیصد ٹیکس جو نافذہوا ہ یہ پولٹری سمیت پولٹری کی ہر آئٹم پر ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ انڈسٹری ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے اس انڈسٹری میں کروڑوں کے کاروبار وابسطہ ہیں اور ایک بہت بڑا اکنامک سرکل اس انڈسٹری سے وابستہ ہے۔
لاہور چیمبر کے نائب صدر عدنان خالد بٹ نے اس موقع پر کہا کہ لاہور چیمبر نے فیڈرل بجٹ 2024 میں لگائے گئے بہت سے ٹیکسوں کی بھرپور مخالفت کی ہے اور ان کو غیر منصفانہ اور معیشت کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں پولٹری اور ڈیری فیڈ پر 10% ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کی وجہ سے پیک شدہ دودھ صارفین کو اضافی 50 روپے فی لیٹر ادا کرنا ہوں گے۔ان ٹیکسوں کے نفاذ سے دودھ اور گوشت جو پہلے ہی عوام کی پہنچ سے دور ہوچکے ہیں،وہ مزید مہنگے ہوجائیں گے، جس سے انفلیشن میں بھی یقینی طور پراضافہ ہوگا۔اگر ان نئے ٹیکسوں کوواپس نہ لیا گیا تو اس سے پولٹری انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان اورڈیری سیکٹر میں 70 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں پروٹین کی فی کس Intake صرف 44 گرام فی دن ہے جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اس کا استعمال 140 گرام فی دن کے قریب ہے۔جب پولٹری پر نیا ٹیکس عائد ہوگا تو صورتحال مزید بدتر ہوجائے گی۔اسی طرح پاکستان میں 40 فیصد بچے غیر معمولی قد، 29 فیصد کم وزن اور 18 فیصد غذائی قلت کی وجہ سے خستہ حال ہیں۔ 240 ملین سے زائد پاکستانیوں میں سے تقریباً 90 فیصد تازہ غیر محفوظ دودھ استعمال کرتے ہیں جبکہ صرف 10 فیصد پیک شدہ دودھ استعمال کرتے ہیں۔ان اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے حکومت کو اپنا یہ فیصلہ ہر صورت واپس لینا چاہئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button