
یونیورسٹی ملازمین کی رکی ہوئی پروموشن بحال، انڈوومنٹ فنڈ ایک کروڑ سے بڑھ گیا۔ ایک سالہ کارکردگی کی تفصیلات جاری
لاہور (خبر نگار) پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز نے بطور وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی ایک سال مکمل کر لیا۔ایجوکیشن سیکٹر میں وسیع تجربے کی حامل ڈاکٹر شگفتہ ناز لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر اور ڈین آف سائنس ہیں۔ وہ 2010 میں پروفیسر آف بائیو ٹیکنالوجی تعینات ہوئیں ۔ گورنر پنجاب اور چانسلر نے 2019 اور پھر 2023 میں انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی فیکلٹی کی ڈین مقرر کیا۔ وہ متعدد کلیدی عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔ ایک سال قبل انہوں نے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ مرزا کی سبکدوشی کے بعد یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق وائس چانسلر کا آفس سنبھالا۔ انہوں نے ایک سال میں یونیورسٹی کی ترقی اور ترویج کیلئے متعدد نمایاں اقدامات کئے۔ یونیورسٹی کے انتظامی اور تدریسی شعبوں کی اوور ہالنگ پر توجہ دی۔ فنانس کے شعبے میں اصلاحات کیں اور ایک سو چار ملین روپے کی ریکوری کرکے یونیورسٹی کے خزانے میں جمع کرائے۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پاکستان میں واحد ویمن یونیورسٹی ہے جس نے 2023 میں ٹائمز رینکنگ حاصل کی۔ سی ایم ایس یعنی کیمپس مینجمنٹ سسٹم کا نفاذ کیا جس سے یونیورسٹی کے داخلے، امتحانات، واجبات اور ریکارڈ کیپنگ کے معاملات ڈیجیٹلائز ہو گئے۔ سی ایم ایس کی مدد سے پیپر فری کیمپس کا خواب پورا ہوا اور اب طالبات اور والدین گھر بیٹھے اپنے موبائل سے یونیورسٹی کی فیسیں اور داخلہ فارم جمع کرا سکتے ہیں اور امتحانات سے متعلق معلومات اور کاغذات حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شگفتہ ناز کی زیر نگرانی ایک کمیٹی یونیورسٹی کے ملازمین کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کیلئے کام کر رہی ہے۔ ایک سال کے عرصے میں رکے ہوئے سلیکشن بورڈز کے اجلاس منعقد کئے، ویمن ایمپاورمنٹ کیلئے کئی مستند اداروں سے ایم او یوز کئے ۔ ای روز گار پروگرام کو بحال کیا، طالبات کو اپنا تخلیقی کام کمرشل بنیادوں پر مارکیٹ کرنے کیلئے کیمپس میں جگہ فراہم کرنے کا منصوبہ دیا اور کیورو شاپ قائم کی۔ ایلومینائی پورٹل بنایا اور انہیں یونیورسٹی کی ترقی میں شانہ بشانہ کھڑا کیا۔ انڈومنٹ فنڈ کی رقم کا حجم ایک کروڑ سے اوپر پہنچا دیا۔ یونیورسٹی کی کم استعمال میں عمارت فائیو ریس کورس میں سٹیٹ آف دی آرٹ، آرٹ گیلری قائم کر دی اور یہاں پر ملٹی سٹوری پلازہ تعمیر کرنے کیلئے چیف انجینئر کو ٹاسک دے دیا۔ ایک سال میں ملازمین کی پروموشنز کا رکا ہوا کام مکمل کرایا۔ ٹائم سکیل پروموشن کے کیس بھی مکمل کرائے، پڑھے لکھے اور تجربے کے حامل چھوٹے سکیل والے ملازمین کو انتظامی آسامیوں پر ترقی دی، کیمپس کی خوبصورتی اور بیوٹی فکیشن پر توجہ دی، معمول کے رنگ روغن کے علاوہ یونیورسٹی کی ایک دیوار پر نقشی کاری کرائی۔ یہ mosaiq آرٹ کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ اولڈ ہوسٹل، سائنس بلاک اور واٹر ٹینکس کو تعمیر و مرمت کے ذریعے شاندار بنا دیا۔ یونیورسٹی میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے آسامیاں مشتہر کیں جن کیلئے مستقل وائس چانسلر سلیکشن بورڈز منعقد کر سکے گی۔ تمام قواعد و ضوابط پورے کر کے ڈینز کیلئے نئی گاڑیاں منگوائی ہیں۔ یو ایس اے آئی ڈی کا فنڈڈ پروگرام ہیسہ HESSA کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ اس کی پلاننگ کمیٹی نئے سرے سے قائم کی اور مڈٹرم۔اویلیوایشن کی۔ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی وژن 2040 ڈویلپ کیا، حج قرعہ اندازی کے ذریعے دو ملازمین کو حج پر بھجوایا۔ طالبات اور فیکلٹی کیلئے قرآن تعلیم کی باقاعدہ he کلاسیں شروع کیں۔ ایچ ای سی پاکستان کی نئی تعلیمی پالیسی برائے گریجوایٹ اور انڈر گریڈ نافذ کی۔ 19 ویں کانووکیشن کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ پاک یوکے گیٹ وے موبلٹی پارٹنرشپ کے ذریعے طلباء دفود کا تبادلہ کیا۔ یونیورسٹی کے کالاشاہ جاکو میں واقع نیو کیمپس کیلئے ایک ارب سے زائد پراجیکٹ منظوری کیلئے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمشن کو پیش کئے۔ ڈاکٹر شگفتہ ناز کا کہنا ہے کہ ادارے کی سربراہی کی مدت کچھ بھی ہو اقدامات کی سمت اور نیت سیدھی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ان کامیابیوں کیلئے وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتی ہیں۔







