برطانیہ: اینٹی امیگریشن احتجاج، وزیراعظم کا اظہار مذمت

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ کشیدگی پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق بھرپور کارروائی کی جائے گی۔
برطانیہ میں گزشتہ ہفتے ساؤتھمپٹن میں بچوں کی ڈانس کلاس میں چاقو کے حملے میں تین بچیوں کے قتل کے بعد احتجاج شروع ہوگیا تھا اور گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے کو مسلمان مخالف اور تارکین وطن مخالف گروپس نے اچھالا تھا کیونکہ یہ جھوٹی خبر پھیلائی گئی تھی کہ حملہ آور تارکین وطن اور مسلمان تھا۔
برطانوی پولیس نے کہا تھا کہ حملہ آور برطانوی نژاد شہری ہے اور وہ اس واقعے کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کرتی۔
تاہم برطانیہ میں احتجاج کا دائرہ وسیع ہوگیا اور ملک کے دیگر علاقوں لیور پول، برسٹول اور مانچسٹر میں بھی کشیدگی ہوئی، جس کے نتیجے میں درجن شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
برطانوی وزیراعظم نے مذمتی بیان میں کہا کہ میں دائیں بازو کے بدمعاشوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہوں، جو اس کشیدگی کا حصہ بنے ہیں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کیونکہ ان کے خلاف قانون سختی سے پیش آئے گا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ان مظاہروں کے پیچھے بظاہر جو بھی محرکات تھے یہ مجرمانہ اقدام ہے اور یہ احتجاج ہرگز نہیں ہے۔







