
نگران حکومت کاٹارگٹڈسبسڈی پر پوری طرح فوکس ہے تاکہ مستحق کو اس کا حق ملے۔ایس ایم تنویر
گندم پر 700روپے فی من سبسڈی دی جارہی ہے،سرکاری گندم سبسڈی کے بعد 2300روپے فی من فروخت کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و خوراک
لاہور(خبر نگار)نگران صوبائی وزیر صنعت وتجارت و توانائی ایس ایم تنویر کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں اجلاس منعقد ہوا جس میں نگران صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و خوراک بلال افضل، سپیشل سیکرٹری خوراک، ڈائریکٹر خوراک اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اپریل۔ جون2023ء کے لئے گندم کی کموڈیٹی فنانسنگ کے لئے آر ایف پی اور ٹینڈرنگ کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گندم کی خریدار ی مہم، غریب عوام کے لئے آٹے پر سبسڈی اور دیگر معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
صوبائی وزیر صنعت وتجارت ایس ایم تنویر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مختصر مد ت میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔ چاہتے ہیں کہ مختصر عرصہ میں عوام کی بھر پور خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی سے ہر طبقہ مستفید ہوتا ہے جبکہ سبسڈی کا مقصد غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی ہے۔ نگران حکومت کاٹارگٹڈسبسڈی پر پوری طرح فوکس ہے تاکہ مستحق کو اس کا حق ملے۔
صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و خوراک بلال افضل نے اجلاس میں بتایا کہ گندم پر 700روپے فی من سبسڈی دی جارہی ہے جبکہ سرکاری گندم سبسڈی کے بعد 2300روپے فی من فروخت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم خریداری کے لئے پنجاب پہلے ہی 600ارب روپے کا مقروض ہے۔ اس سال پنجاب حکومت کو گندم خریداری کے لئے مزید 400ارب روپے مختص کرنا پڑیں گے۔ شرح سود کی ادائیگی کے لئے پنجاب کو تقریباً 200ارب روپے مختص کرنا پڑیں گے۔اس سے پنجاب حکومت کے ڈیفالٹ ہونا کا خدشہ ہوگا۔ ڈیفالٹ سے بچنے کا واحد حل صرف غریب کو سبسڈی دینے میں ہے اور آئی ایم ایف نے بھی صرف غریب کو سبسڈی دینے کی تجویز دی ہے۔







