
لاہور(خبر نگار) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جمعرات کے روز کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا اہتمام قومی احتساب بیورو کی جانب سے کیا گیا اور اس کا موضوع "بدعنوانی کے خاتمے میں طلبہ اور یونیورسٹیوں کا کردار” تھا۔ اس موقع پر انسداد بدعنوانی کے حوالے سے آگاہی واک کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں یو ایچ ایس کی فیکلٹی، سٹاف اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیمینار کے مقررین میں ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب عطیہ عظمت، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد ساجد اور رجسٹرار یو ایچ ایس پروفیسر نادیہ نسیم شامل تھے جنھوں نے قومی احتساب بیورو کے انتظامی ڈھانچے، مینڈیٹ اور کردار پر روشنی ڈالی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محمد ساجد نے کہا کہ بیورو اب تک مختلف کیسز میں 790 ارب روپے کی ریکوری کرچکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیب کے کیسز میں فرد جرم عائد ہونے کی شرح 66 فیصد ہے۔ طلبہ اور فیکلٹی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نیب حکام کا کہنا تھا کہ سٹوڈنٹس میں حلال اور حرام کا تصور واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ طلبہ بدعنوانی کے خلاف ایک مضبوط آواز بنیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ بدعنوانی کے تصور کو بہت پہلے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ سسٹم وینٹیلیٹر پر چلا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب عطیہ عظمت نے کہا کہ ہم کرپشن کو ذہنی طور پر قبول کر چکے ہیں اور یہی ذہنی بے حسی بدعنوانی کے بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائمز کو ڈیل کرتے ہوئے بین الااقوامی قوانین اور معاہدے رکاوٹ بنتے ہیں۔

سیمینار کے اختتام پر وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے مقررین کو یادگاری شیلڈز دیں۔








