
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک وضاحت دینا چاہتا ہوں کہ میری صدارت میں حکومتی جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کے ماہرین قانون کا اجلاس ہوا تھا، جس میں فیصلہ ہوا تھا کہ موجودہ بنچ پر اظہار عدم اعتماد کیا جائے گا، اس میں بائیکاٹ کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا، دوسری بات یہ کہ جسٹس اعجازالاحسن خود اس کیس کی سماعت سے معذرت کرچکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی حکومت نے موجودہ بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، کاش چیف جسٹس فل کورٹ تشکیل دے دیں، اس بنچ سے فیصلہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے سو فیصد منافی ہے۔







