پاکستانتازہ ترین

 سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نےبھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو 4-3 کے تناسب سے قرار دیدیا 

اسلام آباد: تفصیلی اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ میں جسٹس یحی خان آفریدی کے درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں، میں نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندو خیل کے فیصلے کو پڑھا ہے اس لیے انکے حکمنامے سے بھی اتفاق کرتا ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا حوالہ بھی دیا گیا۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کے بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، پی ٹی آئی کے اسمبلی سے استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز نے آئین کے تحفظ کا ایک جیسا ہی حلف اٹھا رکھا ہے، آرٹیکل 184/3 میں اپیل کا حق نہیں ہوتا اس لیے مناسب ہوتا ہے ہائی کورٹ کو معاملہ سننے دیا جائے۔

فیصلے میں سوالات اٹھائے گئے کہ کیا ایسی سیاسی حکمت عملی آئین اور جمہوریت کے تحت مطابقت رکھتی ہے؟ کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا سپریم کورٹ کو ایسی سیاسی حکمت عملی کو تقویت دینے کے لیے اپنا فورم استعمال کرنے کی اجازت دینے چاہیے؟ کیا عدالت کو غیر جمہوری روایات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button