
صحت کی ترقی کیلئے ریڈٹیپازم کوختم اور نظام میںآسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر۔
پولیو اور کروانا شہدا کو قومی ہیرو قرار دیا جائے، اور صحت کے نطام میں بہتری کیلئے قانون سازی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر سعید الہی ،ڈاکٹر مسعود شیخ
لاہور (خبر نگار)
صحت کے عالمی دن کے موقع پر جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے زیر اہتمام قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب جناب بلیغ الرحمن نے کہا کہ دنیا کی 2 ارب آبادی فنڈز کی کمی کے باعث صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ دنیا بھر میں 2030 تک 1کروڑ ہیلتھ ورکرز کی کمی کو دور کرنے کے لیے تعلیم، ہنر اور صحت میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیناہوگی ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور حکومت میں ملک میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کی بہتری کے لیے بہت کام کیا۔ صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے پاکستان کے ہیلتھ انفراسٹرکچر کوبہترین قرار دیا۔ انہوں نے ریڈ ٹیپزم اور دیگر بدعنوانیوںکو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کے indicaters کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سابق چیئرمین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پاکستان ڈاکٹر سعید الہی نے تجویز دی کہ پولیو مہم اور کورونا وبا کے دوران شہید ہونے والے ہیلتھ کیئر ورکرز اور ڈاکٹروں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور ان کے ورثا کو مالی امداد فراہم کی جائے۔جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسعود شیخ نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج پر توجہ مرکوز کی جائے اورسیاسی اور سماجی راہنما صحت کی سہولیات کے حوالے سے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ وبائی اور دیگر امراض پر قابو پانے کیلئے مناسب قانون سازی کرے۔اگر بین الاقوامی اداروں کا تعاون جاری رہا تو چیچک کی طرح پولیو کو بھی اس ملک سے ختم کر دیں گے ۔اسوقت ملک میں ماں اور بچے کی صحت پر زور دینا ہوگا۔ دنیا کو ہر چند سال کے بعد ایک نئی وبا کا سامنا ہے، مل جل کر اسکا سدباب ممکن ہے۔

سیمینار سے عالمی ادری صحت کے نمائیدہ ڈاکٹر یحی گلزار، وائس چانسلر KEMUپروفیسر محمود ایاز، پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فرید ظفر، پروفیسر روبینہ ذاکر، پروفیسر جنید رشید،و دیگر نے خطاب کیا اورجنرل کیڈر ڈاکٹرز، ڈبلیو ایچ او، کے ای ایم یو، یو ایچ ایس، فیملی فزیشنز، پنجاب یونیورسٹی، نرسنگ اور پیرا میڈیکل سٹاف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔







