پاکستانسٹیکاروبار

کاروباری معاملات پر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے: لاہور و ساہیوال چیمبرز

لاہور(خبر نگار) ساہیوال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ سینئر نائب صدر ظفر محمود چوہدری، ساہیوال چیمبر کے قائم مقام صدر میاں عمیر علی اور نائب صدر محمد عرفان نے اس موقع پر خطاب کیا۔لاہور چیمبر کے صدر نے وفد کو بتایا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنے قیام کے 100 سال مکمل کر لیے ہیں۔ وہ 100ویں صدر ہیں اور انہوں نے اپنے دور کو بزنس کمپلائنس اور فیسیلیٹیشن سال قرار دیا ہے۔کاشف انور نے اس بات پر زور دیا کہ تمام چیمبرز کے درمیان تعاون کاروباری برادری کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو گا، جس سے وہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایل سی کے مسائل کی وجہ سے درآمدات بند ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ زیادہ ہے جسے نیچے لانا ضروری ہے۔کاشف انور نے کہا کہ سموگ اور ماحولیات کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبراپنے ممبران کے لیے سیمینارز اور آگاہی سیشنز کا انعقاد کر رہا ہے۔کاشف انور نے کہا کہ لاہور چیمبر میں وفاقی اور صوبائی محکموں کے متعدد ہیلپ ڈیسک ون ونڈو سمارٹ سروسز کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبے میں ون ونڈو آپریشن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروبار کی تمام تفصیلات اب ایف بی آر کے پورٹل پر دستیاب ہیں اس لیے ٹیکس گوشوارے احتیاط سے جمع کروائے جائیں۔ساہیوال چیمبر کے صدر میاں عمیر علی نے لاہور چیمبر اور ساہیوال کے درمیان ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے چیمبرز کے درمیان رابطوں کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس نہ دینے والوں کے لیے سہولیات مختلف ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اراضی مہنگی ہے۔ چیمبرز کو زمین خریدنے اور صنعتی زون قائم کرنے کی اجازت دی جائے جو زمین کی قیمت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔انہوں نے لاہور چیمبر کے صدر کو ایک وفد کے ساتھ سرگودھا چیمبر کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ انہیں لاہور چیمبر میں ہونے والی اہم تقریبات میں شرکت کا موقع دیا جائے۔ بعد ازاں وفد نے ایل سی سی آئی ون ونڈو آپریشن کا دورہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button