
لاہور(خبر نگار)بہترین فعال طرز زندگی، فوڈ سپلیمنٹس اور نیچرل ادویات بہت سے مسائل سے بچاﺅ میں مددگار ہوسکتے ہیں لہذا اس سلسلے لوگوں کو تمام ابہامات ذہن سے نکال دینے چاہئیں تاکہ صحتمندزندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے لاہور چیمبر میں علاج و معالجہ کے متبادل طریقے اس بارے میں ابہامات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے سیمینار کی صدارت کی جبکہ سینئر نائب صدر ظفر محمود چودھری، ایگزیکٹو کمیٹی رکن شمیم اختر، ماہرین طاہر محمود خان، نجم جاوا، عرفان شاہد ، ڈاکٹر تنویر خان ، ڈاکٹر بشری و دیگر نے اس موقع پر خطاب کیا۔ صدر لاہور چیمبر کاشف انور نے کہا کہ قدرتی طرز علاج نہ صرف پاکستان میں پسند کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر میں فطری غذاوں اورہربل دواوں کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔جدید میڈیکل سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا کی بیشتر آبادی ہربل دواوں کا استعمال کر رہی ہے ۔پاکستان میں بھی آبادی کی ایک بہت بڑی تعدادمختلف امراض کے سلسلے میں نیچرل میڈیسنز کا استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن بھی نیچرل ادویات اور فطری طرز علاج کو متبادل طریقہ علاج کے طور پر تسلیم کرچکی ہے۔اگر ایلوپیتھک کے ساتھ ساتھ ان متبادل طریقہ علاج کو بھی رواج دیا جائے تو عوام کا بہت بھلا ہوسکتا ہے جو مہنگے علاج کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس کے علاوہ ایک متوازی انڈسٹری بھی پروان چڑھ سکتی ہے۔ لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی رکن شمیم اختر نے کہا کہ فوڈ سپلیمنٹس اور نیچرل ادویات سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے ابہامات ہیں جو درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحتمند رہنے کے لیے نیچر کے نزدیک رہنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی خوراک، قدرتی نیند اور فعال طرز زندگی اپناکر بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔ تمام ماہرین کا کہنا تھا کہ ہربل و ہومیوپیتھک ادویات اور فوڈ سپلیمنٹس قدرتی اجزاءسے بنتے ہیں اور نہ صرف یہ فائدہ دیتے ہیں بلکہ ان کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشیا سستی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پہنچ میں بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)نے ان ادویات اور فوڈ سپیلیمنٹس کو ریگولیٹ بھی کیا ہے جس کی وجہ سے تمام سیفٹی پیرامیٹرز کو فالو کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نیچرل سورسز کا استعمال خوراک میں بہت کم جبکہ پراسیسڈ فوڈ کا استعمال زیادہ ہے ۔ یہ رحجان تبدیل کرنا ہوگا۔







