
آئی ایم ایف نے بجلی کی چوری کے خلاف جاری مہم کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو مہنگے درآمدی ایندھن کی وجہ سے مارچ میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 7 روپے کا اضافہ کرنے پر بھی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف نے مارچ میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 7 روپے فی یونٹ اضافے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایکسچینج ریٹ مستحکم رہنے اور ایندھن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی بناء پر یہ اضافہ غیر منصفانہ ہے۔
آئی ایم ایف نے گردشی قرضے کو 263 ارب روپے تک محدود کرنے کے حکومتی دعووں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا، کیوں کہ رواں مالی سال کے سات ماہ کے دوران ہی گردشی قرضہ 200 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔







