تعلیمسٹیسیاست

سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینا غریب کے بچوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے

آئین کے آرٹیکل 25اے کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دے۔

حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نبرد آزما ہونے کی بجائے اس سے تعلیمی ادارے کو ٹھیکہ پر دینے تیاریاں کررہی ہے۔
حکومت تعلیمی نظام اور سکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے اور سکولوں کو ٹھیکے پر دینے کے فیصلے کوفوری واپس لے۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدن انصاری ایڈووکیٹ کا پنجاب ٹیچرز الائنس کے زیراہتمام سکولوں کو پرائیویٹزیشن کے خلاف احتجاجی دھرنے سے خطاب
لاہور (خبر نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایا ت پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی پنجاب ٹیچرز الائنس کے زیراہتمام احتجاجی دھرنے میں اظہار یکجہتی کیلئے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کو ٹھیکے پر دینا غریب کے بچوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25اے کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دے۔ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری سے نبرد آزما ہونے کی بجائے اس سے تعلیمی ادارے کو ٹھیکہ پر دینے تیاریاں کررہی ہے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ پنجاب میں سوا لاکھ ٹیچرز کی آسامیاں خالی پڑی ہے اور پنجاب میں ایسے سکولز بھی موجود ہیں جن میں ایک یا دو ٹیچرز سینکڑوں بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہیں۔وزارت تعلیم،ڈائریکوریٹ میں تعنیات افسران تنخواہیں تو لیتے ہیں مگر تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور اس کے فروغ کیلئے کام کرتے بلکہ بھاری تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 7 فیصد تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہیاور اس میں سے محدودبجٹ میں سے بھی صرف 10سے 15 فیصد بجٹ کا حصہ فروغ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے جبکہ باقی افسران اور اساتذہ کے تنخواہوں کی مد میں چلا جاتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اساتذہ جنہیں سکولوں میں بچوں کو پڑھانے کیلئے بھرتی کیا گیا ان سے پولیو مہم، الیکشن، مردم شماری، بیرونی ممالک کے وفود کے استقبال سمیت دیگر کاموں میں استعمال کیا جاتا جس سے تعلیمی نظام اور بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہوتی ہے اوراس سب کے باوجود حکومت اساتذہ سے ان کی بنیادی ذمہ داری فروغ تعلیم، سرکاری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بجائے پنجاب بھر میں 13 ہزار سے زائد سکولوں کو ٹھیکہ پر دینے کیلئے اقدامات کررہی ہے جو تعلیم دشمن پالیسی کے سوا کچھ نہیں،اس اقدام سے کمرتوڑ مہنگائی میں غریب اور عام آدمی کے بچے تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہوجائیں گے۔آج سے احتجاجی دھرنے میں حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی نظام اور سکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرے ۔ تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور سکولوں کے ٹھیکے پر دینے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔ اگر حکومت نے تعلیم دشمن اقدامات کو واپس نہ لیا تو جماعت اسلامی پنجاب بھر کے اساتذہ اور ٹیچرز الائنس کے احتجاج میں برابر کے شریک ہوں گے اور احتجاج کا دائرکار وسیع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button