سٹیصحت

صوبائی دارلحکومت میں بارش نے ہسپتالوں میں اربوں روپے کی لاگت سے کی جانے والی تعمیر ومرمت کا پول کھول دیا

سیکرٹری صحت علی جان کی زیر سرپرستی ہسپتالوں میں 116ارب روپے سے زائد رقم سے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت کا کام کیا گیا

ناقص تعمیرومرمت کے باعث بارش نے ہسپتالوںکو بڑی طرح متاثر کیا ، وارڈوں میں پانی داخل ، چھتیں ٹپکتی رہیں ، طبی آلات متاثر لواحقین اپنے مریضوں کو اٹھائے ذلیل وخوار ہوتے رہے ، صورتحال وزیر اعلی پنجاب کے شعبہ صحت کی بہتری کیلئے اقدامات پر سوالیہ نشان 

لاہور (امداداللہ قریشی ) صوبائی دارلحکومت میں ہونے والی گزشتہ روز کی بارش نے ہسپتالوں میں اربوں روپے کی لاگت سے کی جانے والی تعمیر ومرمت کا پول کھول کر رکھ دیا اور صوبائی دارالحکومت کے متعدد ہسپتالوں کے مختلف شعبہ جات میں پانی داخل ہوگیا جبکہ مختلف ہسپتالوں میں ری ویمپنگ کےباوجود چھتیں ٹپکتی رہیں جس سے ہپستالوں میں موجود قیمتی مشینری کو بھی نقصان پہنچا ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومتوں کی جانب سے سیکرٹری صحت علی جان کی زیر سرپرستی ہسپتالوں میں 116ارب روپے سے زائد رقم سے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت کا کام کیا گیا اور حکومت اور شعبہ صحت کی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ مریضوں کے لئے اس ری ویمپنگ سے انقلابی اور مثالی اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہسپتالوں پر اربوں روپے لگانے کے باوجود صرف ایک ہی بارش نے حکومت و شعبہ صحت کے تمام دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے اگر صرف صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں کا جائزہ لیا جائے تو ناقص تعمیرومرمت کے باعث بارش نے ہسپتالوںکو بڑی طرح متاثر کیا
ہے صوبائی دارلحکومت کے سروسز ہسپتال، لاہور گنگارام ہسپتال، لاہور جنرل ہسپتال، جناح ہسپتال ، میاں منشی ہسپتال سمیت دیگر ہسپتال پانی میں ڈوبے رہے اور سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی ، لاہور گنگارام ہسپتال کی آرتھوپیڈک وارڈ ، جناح ہسپتال، میو ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں کی متعدد وارڈوں اور راہداریوں میں پانی تیرتا رہا جبکہ متعدد ہسپتالوں کی چھتیں لیک کرنے کے باعث بھی کمروں میں موجود طبی آلات کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ ہسپتالوں میں موجود مریض اور انکے لواحقین اپنے جوتے ہاتھوں میں اٹھائے خشک جگہ ڈھونڈنے میں مصروف رہے اور انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس حوالے مریضوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کی تعمیرومرمت پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ہسپتالوں کی یہ حالت وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے مریضوں کی بہتری کیلئے اٹھائےجانے والے اقدامات پر سوالیہ نشان چھوڑتے ہیں ۔ مریضوں اور لواحقین نے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں میں اربوں روپے کی ری ویمپنگ کی تھرڈ پارٹی آڈٹ ضروری ہے تاکہ یہ بات معلوم ہوسکے کہ عوام کی جیبوں سے حاصل کئے گئے ٹیکسز کی رقم مریضوں کی فلاح و بہبود کیلئے کتنی ایمانداری اور شفاف طریقے سے خرچ کی گئی ہے علاوہ ازیں ہسپتالوں کی یہ صورتحال سیکرٹری صحت سمیت شعبہ صحت کے دیگر سربراہان کی بہتری کیلئے کی جانے والی منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button