
قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا جبکہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا.
لاہور (خبر نگار) استحکام پاکستان پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کا منشور ملک کی بگڑی ہوئی سیاسی و معاشی صحت کی بحالی کا نسخہ ہو گا. قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا جبکہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا. وہ گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوٸے کہا کہ سویڈن کے بعد ڈنمارک میں بھی قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی بے ادبی کرنے والے آسمان کی طرف منہ کر کے تھوک رہے ہیں جو ان کے اپنے ہی چہروں پر گرے گا۔ استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے آج پہلی بار لاہور میں صحافی برادری اور میڈیا فیملی سے مخاطب ہوں۔ لاہور میرا دوسرا گھر ہے جو میری سیاسی جدوجہد کا چشم دید گواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور ہمیشہ سے سیاسی سرگرمیوں کا محور و مرکز رہا ہے۔ لاہور کی سیاست پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کا ڈومیسائل لاہور سے ہی جاری ہوتا ہے۔ آٸی پی پی کی سیاست مخلص بھی ہے اور مختلف بھی ہے۔ گزشتہ ہفتے قومی دارالخلافہ میں آئی پی پی کا منشور پیش کیا آج ملک کے سیاسی دارالخلافہ میں اپنی پارٹی کا منشور پیش کر رہی ہوں ۔ جو میرے لئے باعث عزت ہے۔ ہماری پارٹی کا منشور ملک کی بگڑی ہوئی سیاسی و معاشی صحت کی بحالی کا نسخہ ہو گا۔ ہمارا منشور اکنامک ڈیولیپمنٹ کی ہینڈ بک ہے۔حکومت کے پاس مہنگاٸی ختم کرنے کا کوٸی پلان نہیں۔ بجلی مہنگی کر کے اور ریڈیو ٹیکس لگا کر غریب آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت اپنے آخری اوورز کا میچ کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی قیادت میں قیام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا جبکہ جہانگیر ترین اور علیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ ایک اگست قیام پاکستان کا مہینہ تھا یہ اگست استحکام پاکستان کا مہینہ ہے۔ نئی سیاسی جماعت کے ساتھ ہی بہت سے نئے سیاسی کھلاڑی بھی میدان میں اتریں گے۔ نہوں نے کہا کہ ہماری عوامی رابطہ مہم بہت متحرک اور متاثر کن ہو گی۔ ہماری جماعت نے شاہین کا انتخابی نشان لے کر اقبال کے نظریہ کو مشعل راہ بنایا ہے جو کہتا ہے کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور. انہوں نے کہا کہ نو مئی تک آپ نے کرگس کا جہاں دیکھا نو مئی کے بعد اب استحکام پاکستان پارٹی شاہین کا جہاں بنائے گی۔ پاکستان اگست کی سیاست میں داخل ہو رہا ہے، اس لئے ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ ہو گا۔ عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ گرین پالیٹکس ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہے. براون سیاست کا دور گزر چکا۔ براون سیاست صرف الزامات، وعدوں اور انتشار کی سیاست تھی جو اب متروک ہو چکی ہے۔ اب گرین پالیٹکس یعنی اعتبار کی سیاست کا دور ہے جو سرسز و شاداب اور ہریالی و خوشحالی کی علامت ہے۔ سبز ہلالی پرچم حقیقی معنوں میں سر بلند ہو گا۔ دفاعی سپہ سالار کو اقتصادی سپہ سالار کا کردار بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ سیاست دانوں کی نا لائقی اور نا اہلی کی وجہ سے سپہ سالار کو دوہری ذمہ داریاں نبھانی پڑ رہی ہیں۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے پاک فوج کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گرین انیشی ایٹو پاکستان کے لئے کسی نعمت سے کم نہ ہے۔سپہ سالار نے سبز باغ دکھانے کی بجائے سر سبز اور خوشحالی و ترقی کا رستہ دکھایا۔ گرین پالیٹکس کے بغیر پولیٹیکل لینڈ سکیپ بنجر اور ویران نظر آئے گا۔ گرین پالیٹکس جدید طرز کی پالیٹکس ہے جس میں وائلنس اور ماردھاڑ کی سیاست کی بجائے ایکو فرینڈلی سیاست کو فروغ دیا جاتا ہے۔استحکام پاکستان پارٹی گرین پالیٹکس یعنی ایکو فرینڈلی پالیٹکس کی علمبردار ہے۔ ملکی امن و سلامتی کے لٸے استحکام پاکستان پارٹی ہراول دستے کی طرح کھڑی ہے ۔ ملکی معیشت کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لٸے نوجوان سب سے بڑی طاقت ہیں۔ آٸی پی پی نے نوجوانوں کو ترقی کے اس سفر میں شامل کرنے کے لٸے بہت سے منصوبے ترتیب دے رکھے۔







