
لاہور (خبر نگار)
لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں پاک یورپ فوٹونک کلوکیم کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا انعقاد البیرونی فزکس سوسائٹی آف فزکس ڈیپارٹمنٹ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تعاون سے کیا۔
سیمنار کا مقصد فوٹوونکس کے شعبے میں تکنیکی مہارت کو فروغ دینا تھا۔ سیمینار میں آپٹکس، فوٹوونکس، اور لیزرز کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
تقریب کی مہمان خصوصی وائس چانسلر لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ ناز نے کہا کہ پاک یورپ فوٹونک کلوکیم سے فوٹوونکس کے شعبے میں مزید ترقی کو فروغ ملے گا انہوں نے کہا کہ جیسا کہ دنیا فوٹوونکس انقلاب کا مشاہدہ کر رہی ہے، ایل سی ڈبلیو یو جدید سائنسی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ یورپین انڈسٹری فوٹوونکس کنسورشیم کے رکن کارلوس لی نے سمپوزیم کے دوران اکیسویں صدی کی سائنس اور انجینئرنگ میں فوٹوونکس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ کارلوس لی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی طرح، فوٹوونکس ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو صنعتوں اور ہماری زندگیوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں فوٹوونکس لیبز، مراکز، کلسٹرز اور شہر قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوٹوونکس انقلاب کا ہماری زندگیوں پر پچھلی صدی کے الیکٹرانکس انقلاب سے زیادہ اثر ہونے کی توقع ہے۔
شعبہ فزکس کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر زہرہ نذیر کیانی نے کہا کہ سیمینار نے محققین، طلباء اور صنعت کے پیشہ ور افراد کو نئی تحقیق سے روشناس کرانے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
سیمینار میں GIK انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن صیاد، ڈاکٹر محمد قاسم محمود اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر عثمان یونس شامل تھے۔







