انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاکستان کی حوثیوں کو سخت وارننگ : دفتر خارجہ، ایک حملے کےجواب میں ایک ایرانی پل یا پاور پلانٹ تباہ : ٹرمپ

اسلام آباد(بیورو چیف)پاکستان نے یمن کے حوثیوں کو طاقت کے استعمال کی وارننگ دیتے ہوئے کہا سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے خلاف دھمکیاں قابل مذمت اور علاقائی سلامتی و عالمی تجارت کیلئے نقصان دہ ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ایسے اقدامات علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں، بحری نقل و حمل کی آزادی کو متاثر کرتے ہیں، قواعد پر مبنی بین الاقوامی بحری نظام کو چیلنج کرتے ہیں اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اور تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو بالخصوص ان اطلاعات پر شدید تشویش ہے جن میں سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دھمکیاں دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے خلاف سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان اپنے بحری اثاثوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حقِ دفاع کے تحت تمام ضروری اور قانونی اقدامات، بشمول طاقت کے جائز استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی وابستگی پر قائم ہے اور تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور عالمی بحری جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔

دبئی (رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دھمکی دی ہے کہ بحیرہ عرب یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی بحری جہاز پر حملے کے جواب میں امریکا ایران کا ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کرے گا۔انھوں نے کہا کہ ان میں وہ تنصیبات بھی شامل ہوں گی جو دارالحکومت تہران کے قریب یا تہران شہر کے اندر واقع ہیں۔ یہ سخت بیان یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے توانائی کی دوسری اہم ترین شاہراہ پر سعودی تیل کی نقل و حمل روکنے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ۔حوثیوں کی جانب سے باب المندب کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد کم از کم 7 آئل ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے ، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔امریکی صدر کی اس دھمکی کے جواب میں تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عسکری ذرائع نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ایران بھی خطے میں موجود اتحادی اور امریکی بنیادی ڈھانچے پر جوابی حملہ کرے گا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی تقریباً مکمل ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ، جبکہ حوثیوں کی نئی دھمکی سے تیل کی قیمتیں پچھلے چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔برینٹ کروڈ خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے ۔ امریکا میں گیسولین/پٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہے ، جس سے نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ کی عوامی مقبولیت پر اثر پڑ رہا ہے ۔سعودی عرب آبنائے ہرمز سے بچنے کیلئے روزانہ لاکھوں بیرل تیل بحیرہ احمر میں واقع ینبع بندرگاہ بھیج رہا ہے ۔ تاہم، اگر جنوبی آبنائے باب المندب کا راستہ بند ہو جاتا ہے تو جہازوں کے پاس صرف نہر سویز کا لمبا راستہ بچے گا، جس سے تیل کی ترسیل میں کئی ہفتوں کی تاخیر ہوگی۔امریکی بمباری کا دائرہ کار ایران کے جنوبی حصوں سے بڑھ کر مغربی اور مرکزی علاقوں تک پھیل چکا ہے ۔ دوسری جانب ایران نے اس ہفتے کویت میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے ، نیز کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بھی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کا نیا محاذ کھولنا ایران کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ وہ آنے والے ممکنہ مذاکرات میں اپنا موقف مضبوط کر سکے ۔ ایرانی وزیر داخلہ ا سکندر مومنی نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کر کے اس سے ثالثی کا کردار جاری رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دینا ، دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو امریکا بھی سنجیدہ ہے ، ورنہ امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے ۔ علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے مسلسل 11 ویں رات بھی ایران پر بمباری جاری رہی۔ تہران میں ایئر ڈیفنس کے فعال ہونے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ بوشہر صوبے میں ایران کے واحد ایٹمی پاور پلانٹ کے قریب ایک بجلی کے گرڈ سمیت تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ‘آپریشن نصر 2 کی 25ویں لہر’ کے دوران اردن میں موجود امریکی کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں امریکی فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔ جبکہ متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button