
اسلام آباد (خبرنگار)اعلٰی تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) نے گریجوایٹ ایجوکیشن پالیسی (Graduate Education Policy 2023)ترتیب دے دی جو کہ سمیسٹر خزاں 2023سے قابل عمل ہوگی۔ یہ پالیسی ایچ ای سی کی ویب سائیٹ پر درج ذیل لنک http://www.hec.gov.pk//english/policies/Pages/GEP.aspx
کے ذریعے ملاحظہ کی جاسکتی ہے ۔
ٓایچ ای سی کے دودہائیوں پر محیط تجربے کی روشنی میں اور شعبہ اعلٰی تعلیم سے منسلک ماہرین کی مشاورت سے تشکیل دی جانے والی پالیسی میں جامعات کی خودمختاری،لچک ، اور معیار تعلیم کی بہتری کے بنیادی اصولوںکو مد نظر رکھاگیا ہے۔ پالیسی تعلیمی آزادی، ضروریات سے مطابقت، اور اصلیت جیسے پہلوئوں کو فروغ دینے کی سعی کی گئی ہے۔
گریجوایٹ ایجوکیشن پالیسی 2023کی ایک قابل غور خاصیت یہ ہے کہ اس کی تشکیل میں آزادانہ سوچ کو اپنایا گیا ہے جس کے تحت بین الشعبہ جاتی داخلہ کی اجازت دی گئی ہے جس سے طلباء اپنے منتخب کردہ شعبہ کے اندر مختلف النوع شعبہ جات کا علم حاصل کرسکیں گے۔ پالیسی اس بات کی بھی عکاس ہے کہ مقامی و غیر ملکی تجربات دونوں اہمیت کے حامل ہیں، جیساکہ اس میں غیر ملکی ایویلیوایٹرز (foreign evaluators)کے ساتھ ساتھ ملکی پروفیسر حضرات کی طرف سے کی جانے والی خارجی ایویلیوایشن (external evaluation)بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس جامع نقطہ نظر کا مقصد تعلیمی معیارات کی جامع جانچ پڑتال کو یقینی بنانا ہے۔
مزید یہ کہ پالیسی میں داخلہ کے لیے سی جی پی اے (CGPA)کی شرائط میں رعایتبرتی گئی ہے ، جبکہ یہ پالیسی ڈگری کی تکمیلکے دورانیے کا زیادہ متحرک جائزہ پیش کرتی ہے جو کہ اس کی لچک کا ایک مظاہرہ ہے۔ یہ پالیسی فیکلٹی کی ہم آہنگی ومطابقت کا تعین کرنے والے، ڈاکٹورل سپروائزر بننے کے لیے ایچ ای سی کی طرف سے این او سی (No Objection Certificate)کی شرط، اورایچ ای سی کی منظوری کے عمل کو بھی ہموار کرتی ہے ۔ پالیسی ادارہ جاتی سطح پر ان اصولوں پر عمل درآمد کو مستحکم بنانے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے اور اس کا طریقہ کار وضع کرتی ہے تاکہ تسلسل اور شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
گریجوایٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 ڈگری کے حصول کے لیے ایک کٹھن اور جامع طریقہ کار کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتی ہے اور اس میں جامع امتحانات کے انعقاد، ڈاکٹورل تحاریر کی تیاری، اور مماثلتی رپورٹس کی تشریح کرنے کے لیے تفصیلی رہنما اصول متعارف کیے گئے ہیں۔ یہ رہنما اصول تعلیمی معیارات کی بہتری، اصلیت کی ترویج، اوراعلٰی تعلیمی اداروں میں تحقیق و مطالعہ کے وقار و اخلاقیات کو برقرار رکھنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔
نئی پالیسی کا ایک کلیدی پہلو ڈاکٹورل تحقیق کے نظم پر زور دینا بھی ہے۔ پالیسی سپروائزرز، سپروائزیز اور ایڈوانسڈ مطالعہ و تحقیق کر دیکھنے والے شعبہ جات کے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی تعین کرتی ہے۔اس کا مقصد تعلیمی وقار و اخلاقیات کے کلچر کو فروغ دینا اورتحقیقی سرگرمیوں کے دوران سامنے آنے والی شکایات کو مئوثر طریقہ سے حل کرنا ہے۔
ایچ ای سی پُر وثوق ہے کہ اس پالیسی پر عملدرآمد ملک بھر میں گریجوایٹ پروگراموں کے معیار میں بہتری کا باعث بنے گا، تاہم اس مقاصد کی کامیابی سے تکمیل کا دارومدار شعبہ اعلٰی
تعلیم کے متعلقین کی طرف سے پُرعزم معاونت پر منحصر ہے۔ مجموعی طور پر یہ پالیسی ایک ترقی پسندانہ اقدام ہے جس میں گریجوایٹ سطح کی تعلیم کو بہتر بنانا بطور ترجیح اختیار کیا گیا ہے۔ خودمختاری، لچک اور معیار کی بہتری کو فروغ دیتے ہوئے یہ پالیسی سیکھنے کا بہترین ماحول فراہم کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے جس میں تعلیمی شعبے کی بہتری اور جدت طرازی کو ترویج دیا جاسکے۔







