جرم و سزاسٹی

آئی جی پنجاب کی جڑانوالہ اور سرگودھا میں پیش آنے والے واقعات بارے سنٹرل پولیس آفس میں اہم پریس کانفرنس

جڑانوالہ اور سرگودھا واقعات کے تانے بانے غیر ملکی ایجنسی سے ملتے ہیں، منظم سازش کے تحت سر انجام ہوئے۔

شہریوں سے درخواست ہے کہ دشمن کے آلہ کار بننے کی بجائے تدبیر سے اس جنگ کو ناکام بنائیں۔دونوں واقعات کی تفتیش اور پراسیکیوشن کو بہترین انداز میں مکمل کرکے ملزمان کو قرارواقعی سزائیں دلوائی جائیں گی۔آئی جی پنجاب

لاہور (خبرنگار)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سانحہ جڑانوالہ اور سرگودھا میں پیش آنے والے واقعات بارے سنٹرل پولیس آفس میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ جڑانوالہ اور سرگودھا میں پیش آنے والے واقعات ایک منظم سازش کے تحت سر انجام پائے اور ان کا مقصد ہمسایہ ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے عالمی توجہ کو ہٹانا تھا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ ہمسایہ ملک کی ریاست مانی پورہ میں مسیحی خواتین کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک خبروں کی زینت بنا جس پر یورپی یونین سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شرپسندوں نے پہلے جڑانوالہ میں مسلمان اور مسیحی برادری کولڑانے کی کوشش کی، کچھ شرپسندوں نے مسیحی گھروں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایاتاہم ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،کوئی عصمت دری نہیں ہوئی۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ واقعہ کے فوری بعد قانون حرکت میں آیا اور وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر مسیحی شہریوں کے گھروں اور عبادت گاہوں کی بحالی و تزئین و آرائش کا کام کروا کرپہلے سے بہتر کردیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سانحہ جڑانوالہ کے بعد سرگودھا میں قر آن پاک کی بے حرمتی کرکے ملک گیر آگ لگانے کی سازش کی گئی تاہم پولیس کے بروقت رسپانس، علمائے کرام اور امن کمیٹیوں کی کاوشوں اور اقلیتی رہنماؤں کے تعاون کی بدولت اسے ناکام بنایا گیا۔ آئی جی پنجاب نے ایسے مسلمانوں اور، امن کمیٹیوں، علمائے کرام کی خدمات کو سراہا کہ جنہوں نے اپنے گھروں اور مساجد کو مسیحی برادری کیلئے پیش کردیا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سرگودھا میں یہ واقعات تسلسل کے ساتھ پیش ہوئے تو آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے علمائے کرام اور امن کمیٹیوں کے تعاون سے صورتحال کو قابو میں رکھا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سرگودھا کے آر پی اوز، ڈی پی اوز نے واقعہ کی تفتیش کیلئے ٹیمیں بنائیں جنہوں نے یہ ٹریس کیا کہ یہ سیپارے کہاں چھپے اور کہاں بیچے گئے، وہاں سے ویڈیوز حاصل کرکے سیپارے حاصل کرنے والوں کی ویڈیوز سے ملزمان کی نشاندہی کی گئی۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سول پارچات میں ڈیوٹی پر لگائی گئی2500 جوانوں کی فورس نے ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا جس کے بعد آر پی اوز نے مزید تجزیہ کیا تو پتہ چلا ایک غیر ملکی ایجنسی سے اسکے تانے بانے ملتے ہیں، پنجاب پولیس نے سرگودھا واقعہ میں ملوث دونوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ واقعہ کے تمام شواہد سامنے لائے جاچکے ہیں۔آئی جی پنجاب نے کہاکہ آر پی او فیصل آباد اور سی پی او فیصل آباد نے جڑانوالہ واقعہ کی تفتیش جاری رکھی اور واقعہ میں ملوث تینوں افراد کو ٹریس کرکے گرفتار کرلیا ہے۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنجاب پولیس نے شرپسند عناصر کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے اور اب ایسے واقعات رونما نہیں ہونگے۔آئی جی پنجاب نے درخواست کی کہ اگر دوبارہ ایسا واقعہ پیش آئے تو اشتعال پسندی کی جانب راغب ہونے کی بجائے پنجاب پولیس کا ساتھ دیں تاکہ دشمن کی سازش کوبروقت ناکام بنایا جاسکے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ پنجاب پولیس نے صوبے کے تمام اضلاع میں میثاق سنٹر قائم کردیے گئے ہیں جس کا مقصد اقلیتی شہریوں کے حقوق اور جان ومال کے تحفظ کے عمل کو پہلے سے زیادہ موثربنانا ہے، یہ میثاق سنٹر نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کررہے گے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ میری درخواست ہے کہ کوئی بھی شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر دشمن کا آلہ کار نہ بنے بلکہ تدبیر سے اس جنگ کو ناکام بنائیں، مدعی بنیں نہ کہ واقعہ کے ملزم بن جائیں۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ سانحہ جڑانوالہ میں 03مرکزی ملزمان سمیت180افراد کو ابتدائی طور پر حراست میں لیا گیا، واقعہ کی جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ،آرٹیفیشل انٹیلی جنس،پولیگرافک ٹیسٹ، ہیومن انٹیلی جنس سمیت دیگر سائنسی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کوآگے بڑھایا جارہا ہے اوراس سلسلے میں جے آئی ٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر آر پی او فیصل آباد ڈاکٹرعابد خان، آر پی او سرگودھا شارق کمال صدیقی، سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل اور ڈی پی او سرگودھا محمد فیصل کامران سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

آئی جی پنجاب نے کہاکہ مسلمان قرآن پاک اورنبی پاک ﷺ کے تقدس میں کوئی گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، اقلیتی شہریوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ جڑانوالہ اور سرگودھا میں پیش آنے والے دونوں واقعات کی تفتیش اور پراسیکیوشن کو بہترین انداز میں مکمل کرکے ملزمان کو قرارواقعی سزائیں دلوائی جائی گی اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو ہرصورت پورا کیا جائے گا۔آئی جی پنجاب نے کہاکہ ساری قوم یکجا ہو کر، علماء،امن کمیٹیاں، مسیحی رہنما،ہیومن رائٹس تنظیمیں، میڈیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں۔ آئی جی پنجاب نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی غیر ارادی طور پر ملک دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا آلہ کار مت بن جائیں بلکہ تدبر اور دانشمندی سے سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button