پاکستانتعلیم

عوامی شعور،بیداری اور آگاہی کے لئے میڈیا کا کردار قابل فخرہے ۔ ڈاکٹر شاہد منیر

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن جامعات اور میڈیا کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشنز قاٸم کرنے کے لیے ایک جامع کوڈ آف کنڈکٹ وضع کریگی ۔ چئیر مین پی ایچ ای سی

لاہور/مری (خبر نگار) پنجاب ہائیر
ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا ہے کہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن جامعات اور میڈیا کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشنز قاٸم کرنے کے لیے ایک جامع کوڈ آف کنڈکٹ وضع کریگی اور کوڈ آف کنڈکٹ میں AMBIGUITIES ( ابہام )کو دور کریگی۔
صحافت معاشرے اور ریاست کا چوتھا ستون ہے، عوامی شعور،بیداری اور آگاہی کے لئے میڈیا کا کردار قابل فخرہے لیکن ہمیں اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ قومی اداروں بشمول جامعات کی حرمت کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔ معیاری صحافت اور صحافیانہ اقدار کی پاسداری ضروری ہے ۔ صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ استعداد بڑھانے کے لیے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے اور اعلی تعلیمی اداروں کی مثبت کاوشوں کو اجاگر کرنا چاہیے ۔ منفی صحافت سے اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے ،جامعات اورمحکمہ تعلیم میں بہتری کی گنجائش موجود ہے ۔ ہمیں اپنے عیب نہیں چھپانے چاہیے ، اپنی خامیو ں کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے پی ایچ ای سی کے زیر اہتمام کوہسار یونیورسٹی مر ی میں تعلیمی رپورٹرز اور جامعات کے پبلک ریلیشنز آفیسرز کی دو روزہ ٹریننگ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جس سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر، کوہسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سید حبیب بخاری، چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر منصور بلوچ۔ ڈائریکٹر کوارڈی نیشن ڈاکٹر تنویرقاسم ، ڈائر یکٹر ٹریننگ ڈاکٹر آصف منیر سینئر صحافیوں جواد فیضی اور سبوغ سید نے بھی خطاب کیا جبکہ شرکا نے پینل ڈسکشنز میں حصہ لیا ۔ ڈاکٹر شاہد منیر کاکہنا تھا کہ پی ایچ ای سی قومی اہمیت کی حامل کانفرنسز اور ورکشاپ میں اہم موضوعات کے بارے میں مختلف شعبہ زندگی کی نمایاں شخصیات کو اپنے علم ، تجربے اورمہارت سے ایک دوسرے کو مستفید کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر باہمی تبادلہ خیال کے مواقع فراہم کر رہی ہے جن سے قابل عمل سفارشات مرتب کرنے اور پالیسی ساز ی میں مدد ملتی ہے ۔ پی ایچ ای سی اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک تھنک ٹینک کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے۔ ۔انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں میڈیا کے ذمہ دارانہ کردارمیں اضافہ ہوگیا ہے۔خود احتسابی کے لئے ہم سب کو اپنے گربیان میں جھانکنا چاہیے ۔ ہم تعلیمی بہتری کے لیے سماجی شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں میڈیا کی تجاویز کو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن جامعات اور میڈیا کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشنز اور پبلک ریلیشنز آفیسرز کی استعداد اور میڈیا مینجمنٹ کی حکمت عملی پر مبنی ایک جامع کوڈ آف کنڈکٹ وضع کریگی

اوراس کوڈ آف کنڈکٹ میں AMBIGUITIES( ابہام ) کو دور کریگی۔اس ضمن میں ضروری اقدامات کے لیےسفارشات تیار کرے گی تاکہ جامعات کے خلاف فیک نیوز کے عمل کی حوصلہ شکنی کی جاسکے ۔ انہوں نے قومی اہمیت کی اس نہایت ہی بروقت اور بامقصد ورکشاپ میں جامعات کے پبلک ریلیشنز آفیسر ز اورایجوکیشن رپورٹرز کو ایک چھت تلے جمع کرنے کے عمل کو ایک نقطہ آغاز قراردیا اور کہا کہ آزادی اظہار کے جمہوری حق کو استعمال کرنے میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب ہم قانون اور آئین کی سر بلندی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں آئین عدلیہ اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ جامعات کی حرمت اور وقار کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔۔ انہوں نے کہا کہ پی آرواز کو اپنے شعبہ میں کام کرنے کے حوالے سے مکمل اختیارات اور ان کا جائز حق دینا چاہیے تاکہ وہ چییلنجز کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور ابلاغِ عامہ کی اس بدلتی ہوئی دنیا میں آج کے صحافی کی ذمے داریاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ مستقبل میں آپ کو اپنی خبر یا نیوز رپورٹ کو پیش کرنے میں جدت سے کام لینا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے انسانی زندگی میں بے تحاشہ عمل دخل سے اب صحافت اور ماس کمیونیکیشن پہلے جیسی آسان نہیں رہی بلکہ اس میں مقابلے کا رجحان بھی شدید تر ہوتا جارہا ہے ایسے میں اپنی صحافیانہ رپورٹس کو مستند اور قابلِ یقین بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے آپ کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔
ورکشاپ کے ٹرینرز کا کہناتھا کہ اس قسم کی تربیتی ورکشاپس سے جامعات اور میڈیا ہاوسز کے مابین باہمی تعاون اور تعلقات کو استوار کرنا میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے صحافیوں اور پی آراوز کے باہمی ریلیشنز میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور اس میں بہتری کے لیے تجاویز بھی دیں۔ دوروزہ ورکشاپ میں مختلف جامعات کے پبلک ریلیشنز آفیسرز اور تعلیمی رپورٹرز نے شرکت کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button