پاکستانتعلیمسٹیصحت

پنجاب میں ایم ڈی کیٹ امتحان، 66,864 امیدواروں کی شرکت

میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کیلئے ہونے والے امتحان میں 67فیصد امیدوار لڑکیاں تھیں

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام11شہروں میں قائم29 امتحانی مراکز پر امتحان ہوا صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے لاہور میں امتحانی مراکز کا دورہ کیایو ایچ ایس نے سوالیہ پرچے کی جوابی کلید چند گھنٹے بعد ہی جاری کردی، آفیشل رزلٹ ایک ہفتے میں آئیگا

لاہور (خبرنگار) پنجاب کے میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاداتوار کے روزیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام ہوا۔ایم ڈی کیٹ امتحان میں 66,864امیدواروں نے شرکت کی۔پنجاب کے 11شہروں میں ایم ڈی کیٹ امتحان کے لیے 29مراکز قائم کیے گئے تھے۔امیدواروں میں 45,121 لڑکیاں اور 21,743لڑکے شامل تھے۔یوں لڑکیوں کی تعداد 67فیصد تھی۔ ایم ڈی کیٹ امتحان کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔سوالیہ پرچے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی نگرانی میں امتحانی مراکز پہنچائے گئے۔امتحان کے انعقاد کیلئے4270استاتذہ کو بطور نگران عملہ، 225سپرنٹنڈنٹس اور 355ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا تھا۔لاہور میں 9 امتحانی مراکز تھے جن میں سے سات لڑکیوں اور دو لڑکوں کے لیے مخصوص کیے گئے تھے۔لاہورمیں 19,014امیدوار نے ایم ڈی کیٹ امتحان دیا جن میں 13,259لڑکیاں اور 5755لڑکے شامل تھے۔لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی،یونیوسٹی آف ایجوکیشن ٹاؤن شپ،گورنمنٹ اپوا کالج فار ویمن،گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن گلبرگ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ٹاؤن شپ،ڈی پی ایس ماڈل ٹاؤن، کوئین میری گریجویٹ کالج،ڈی پی ایس ٹاؤن شپ اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں بھی امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ وزیر صحت پنجاب پروفیسر جاوید اکرم اور سیکرٹری ہیلتھ علی جان خان نے لاہور میں مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے امتحانی مرکز پر وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور، وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پروفیسر اصغر زیدی، پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار ظفر الفرید اور سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر فاطمہ شیخ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر جاوید اکرم نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یو ایچ ایس نے ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کیلئے بہترین انتظامات کیے۔تمام امیدواروں اور انکے والدین کو آرم دہ ماحول ملا ہوا ہے۔ پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ امتحان وقت پر شروع ہوا اور وقت پر ختم ہوگا۔ایم ڈی کیٹ ایک سخت مقابلہ ہوتا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ امتحان منصفانہ ہو۔ٹیسٹ کے بعد پہلے سرکاری میڈیکل کالجوں اور پھر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلے کا عمل مکمل ہوگا۔ایم ڈی کیٹ کیلئے یو ایچ ایس کو جو پیسے ملے ان سے زیادہ خرچہ آرہا تھا اس لیے پنجاب کابینہ نے یونیورسٹی کیلئے ایک ہزار روپے فی امیدوار کے حساب سے اضافی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور کا کہنا تھا کہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے پرچہ کی تیاری سے ترسیل تک کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کیا گیا۔میرٹ کو ہرصورت میں یقینی بنایا جائے گا۔میڈیکل کالجوں میں داخلوں کاعمل اس ماہ شروع کیا جائیگا۔وی سی یو ایچ ایس کا کہنا تھا کہ ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ میں 55فیصد نمبرلینا لازمی ہے۔بی ڈی ایس میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ میں 50فیصد نمبرلینا لازمی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایم ڈی کیٹ کا آفیشل رزلٹ ایک ہفتے میں جاری کیا جائے گا۔ملتان میں 13591،بہاولپور5060، فیصل آباد7528، گوجرانوالہ4142اور سیالکوٹ میں 2573امیدواروں نے ٹیسٹ دیا۔ڈی جی خان میں 3064، گجرات 1727، راولپنڈی 3335، سرگودھا 3123اور ساہیوال میں 3707 امیدواروں نے امتحان میں شرکت کی۔میڈیکل انٹری ٹیسٹ صبح10بجے شروع ہوا۔ امیدوار صبح 8بجے سے امتحانی مراکز پہنچنا شروع ہوگئے۔امتحانی مراکز پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ اس کے علاوہ شہری دفاع، ریسکیو1122اور فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موقع پر موجودتھا۔تمام امتحانی مراکز کے باہر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے والدین کیلئے بیٹھنے کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔امتحانی مراکز کے اندر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ روکنے کیلئے دفعہ144 کی گئی تھی۔محکمہ صحت کے حکام، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، میڈیکل اداروں کے وائس چانسلرز،پرو وائس چانسلرز اور پرنسپلز نے انتظامات کا جائزہ لیا۔ایم ڈی کیٹ کا پرچہ 200سوالات پر مشتمل تھا جس کا دورانیہ ساڑھے تین گھنٹے تھا۔ امتحان ڈیڑھ بجے ختم ہوا اور یو ایچ ایس نے ایم ڈی کیٹ کی جوابی کلید(Answer Key) چند گھنٹے بعد اپنی ویب سائیٹ پر جاری کردی۔ امیدوار اپنی جوابی شیٹ کی کاربن کاپی کی مدد سے اپنے نمبر خود لگا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button