سٹی

لیسکو میں بجلی چوروں کیخلاف آپریشن کا اٹھارواں روز،21افراد گرفتار،ترجمان لیسکو

لاہور (خبر نگار)
وزیرِاعظم پاکستان اور وزارت توانائی کی ہدایات پرلیسکوکے چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر کی زیر نگرانی لیسکو ریجن میں بجلی چوروں کیخلاف آپریشن بھر پور طریقے سے جاری ہیں۔ لیسکو ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق لیسکو میں اٹھارویں روز کے آپریشن کے دوران تمام سرکل میں 462کنکشنز بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔460 بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آرز کی درخواستیں متعلقہ تھانوں میں دائر کر دی گئی ہیں جن میں سے203ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہو چکی ہیں جبکہ21ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیاہے، پکڑے جانے والے کنکشنز میں انڈسٹریل1،زرعی 3،کمرشل19اور439ڈومیسٹک تھے۔تمام کنکشنز منقطع کر کے ان کو722,375(سات لاکھ بائیس ہزار تین سوپچھتر) یونٹس ڈٹیکشن بل کی مد میں چارج کئے گئے ہیں جن کی مالیت 37,879,488(تین کڑوراٹھتر لاکھاناسی ہزارچار سو اٹھاسی)روپے ہے۔
بجلی چوروں کیخلاف کئے جانے والے آپریشن میں بڑے زرعی اور کمرشل صارفین بھی بجلی چوری میں ملوث پائی گئے۔ ان تمام کے کنکشنز بھی منقطع کئے گئے اور ان کو ڈٹیکشن یونٹس چارج کئے گئے تفصیل کے مطابق موضع ندھے بصیر پور میں زرعی صارف کو 10,000یونٹس (1,000,000)روپے،ناظم پورہ شیخوپورہ روڈ پر کمرشل صارف کو9,800 یونٹس(700,00.)روپے،گاؤں ونڈالہ ناصر مریدکے میں زرعی صارف کو 13,683یونٹس، (424203روپے)اور ٹینکی والی گلی فیروز والا میں گھریلو صارف کو 4729یونٹس، (400000روپے)کی رقم چارج کی گئی ہے۔
تفصیل کے مطابق لیسکو ریجن میں اٹھاراں روز کے آپریشن کے دوران کل8216کنکشن چیک کئے گئے،7566کنکشن کیخلاف ایف آئی آر کی درخواستیں جمع کروائی گئیں جن میں سے6253درخواستیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔کل499ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔بجلی چوروں کو اب تک17,641,120(ایک کڑورچھہتر لاکھاکتالیس ہزارایک سو بیس)یونٹس چارج کئے گئے ہیں جن کی رقم (694,230,600)ستتر کڑوڑاٹھارہ لا کھ ستاون ہزارپانچ سوروپے ہے۔ واضح رہے بجلی چوروں کیخلاف آپریشنز وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق کیئے جا رہے ہیں اور چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر بذاتِ خود ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیسکو چیف کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے تک بلا تفریق گرینڈ آپریشن جاری رہے گا۔ آپریشن کے دوران بجلی چوروں کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنیوالے لیسکو افسران و ملازمین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button